فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 11200
(05) لفظ ’’مولانا ‘‘ کا استعمال
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 14 April 2014 01:14 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سمندری  سے نا در  خا ں لکھتے ہیں کہ جما عت المسلمین  وا لے علما ء حضرات کو " مو لا نا " کہنا شر ک بتا تے ہیں  اور وہ بطور حدیث یہ پیش کرتے ہیں کہ کو ئی غلا م اپنے آقا کے لئے  لفظ مو لیٰ استعما ل  نہ کر ے  کیونکہ تمہا را مو لیٰ تو صرف اللہ تعالیٰ  ہے ۔" (صحیح مسلم ۔کتاب الادب)

کیا واقعی  علما ء حضرات کو "مو لانا" کہنا شر ک ہے ؟قرآن و حدیث کی رو سے  اس کی وضا حت فر ما ئیں ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عزت و احترا م کے پیش نظر  علما ء حضرات  کو "مو لا نا"یا "مولوی "کہا جا سکتا ہے اور ایسا کر نا شرک نہیں ہے جیسا کہ جما عت المسلمین کی طرف سے یہ تا ثر  دیا جا تا ہے رسو ل اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے لفظ مو لیٰ کو غیر اللہ  کے لئے  استعمال  فر ما یا  بلکہ استعما ل کی تلقین  بھی فرما ئی ہے ۔حدیث میں ہے کہ" تم میں سے کو ئی یوں نہ کہے  کہ اپنے رب کو کھا نا دو  اپنے رب کو وضو کرا ؤبلکہ اپنے آقا کے لئے  "سید "اور "مولیٰ"کہا جائے

(صحیح بخا ری :کتا ب  القق)

اس حدیث کی رو سے غیر اللہ کے لئے لفظ "سید"کا استعمال بھی  جا ئز معلوم ہو تا ہے  جو صرف  اعلیٰ  اور محترم  شخصیت  کے لئے  استعمال  ہو تا ہے تو لفظ مو لیٰ کا اطلاق تو با لا و لیٰ  جا ئز ہو نا چاہیے  جو اعلیٰ اور ادنیٰ دو نو ں کے لئے مستعمل ہے۔ علا مہ  نو دی  رحمۃ اللہ علیہ  نے  پندرہ معا نی کے لئے اس کے استعمال کی نشاندہی فر ما ئی ہے ۔ جن میں آقا ۔ما لک۔ ناصر۔دوست۔آزاد کنندہ اور آزاد کردہ  غلا م  وغیرہ  بھی شا مل ہیں حا فظ حجر رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں:کہ لفظ مو لیٰ ادنیٰ اور اعلیٰ  دو نو ں کے لئے  استعما ل ہو تا ہے  جبکہ  لفظ  سید صرف اعلیٰ اور محترم ذات کے لئے  مخصوص ہے جب غیر اللہ کے لئے لفظ  سید استعما ل ہو سکتاہے  تو غیر اللہ  کے لئے  لفظ  مو لیٰ کےاستعمال  پر کرا ہت  کی کو ئی معقو ل وجہ نہیں ۔(فتح البا ری :5/180)

مذکو رہ با لا  سوال  میں ذکر کر دہ  الفا ظ ایک طویل حدیث کا حصہ  ہیں بلکہ  اصل حدیث میں اضا فہ  کی حیثیت  رکھتے ہیں حدیث کا متن یو ں ہے کہ " تم میں کو ئی اپنے غلا م کو "عبدی " نہ کہے کیو نکہ سب اللہ کے بندے ہو  چاہیے کہ میرا نو کر  یا میرا خدمتگار کے الفا ظ  کہے جا ئیں اسی طرح  کو ئی غلام اپنے آقا کو "ربی " نہ کہے بلکہ اسے "سیدی "کہنا چا ہیے ۔

(صحیح مسلم : کتا ب  الالفا ظ من الادب )

یہ حدیث بروایت ابی ہریرہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ کئی  ایک طرق سے مرو ی ہے جن کی تفصیل  کچھ یو ں ہے :

(1)جریر بن  عبدالحمید عن الاعمش ،(صحیح مسلم)

(2)عبد اللہ بن نمیر  عن الاعمش ۔(مسند امام احمد رحمۃ اللہ علیہ :2/496)

(3)یعلیٰ بن عبید عن الا عمش ۔(مسند امام احمد رحمۃ اللہ علیہ  :2/496)

(4)ابو معا و یہ محمد بن عن الاعمش ۔(صحیح مسلم )

 (5)ابو سعید عبد اللہ بن سعید  الا شج عن وکیع عن الاعمش(صحیح مسلم)

یہ پا نچوں حضرات ثقہ اور بخا ری  و مسلم  کے رجال سے ہیں  مؤ خر  الذ کر  دو حضرات یعنی ابو  معا ویہ اور ابو سعید  الا شج نے اس  روا یت  میں مذکو رہ با لا "اضا فہ" نقل کیا ہے جب  کہ اول الذ کر تین راوی  یعنی  جر یر  ابن نمیر اور یعلیٰ اس اضا فہ  کے بغیر  نقل کر تے ہیں ۔ روا یت مذکو رہ  اضا فہ کو تسلیم  کر نے یا نہ کر نے کے متعلق  ہما رے  سا منے  دو را ستے  ہیں ۔

(1)محدثین کے اصول  کے مطا بق  کہ ثقہ کا اضا فہ قبول  ہو تا ہے اس اضافہ کو قبو ل کیا جا ئے

(2)بیشتر  ثقہ  رادیوں  کی مخا لفت  کی بنا پر اس اضا فہ کو شا ذ قرار دے کر صرف  اصل حدیث  کے الفا ظ کو تسلیم  کیا جا ئے ۔ہما رے نزدیک مذکو رہ اضا فہ  کے متعلق مؤخر  الذ کر صورت  زیا دہ  را جح  ہے ۔چنا نچہ حا فظ  ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں ۔"امام مسلم  نے حضرت  اعمش  سے منقو ل  اس روایت کے متعلق اختلا ف  نقل  فر ما یا ہے چند راوی  اس اضا فہ  کو نقل کرتے ہیں جب کے بعض دوسرے راوی صرف اصل حدیث ذکر  کر نے پر اکتفا کرتے ہیں قاضی عیا ض  رحمۃ اللہ علیہ  کہتے ہیں کہ اس اضا فہ کو روایت سےحذف  کر دینا  زیادہ  صحیح  ہے اور  علا مہ  قر  طبی کا بھی کا بھی یہی مو قف ہے ۔" (فتح البا ری :5/180)

ہم نے اس اضا فہ کو  شاذ قرار دیا ہے  اس کے ذیل  دلا ئل  ہیں :

(3)ابو سعید  الاشج جب  حضرت اعمش سے بوا سطہ حضرت وکیع  رحمۃ اللہ علیہ روایت کر تے ہیں  تو مذکو رہ الفا ظ یعنی  اضا فہ  نقل  کر تے ہیں  جبکہ  حضرت وکیع  رحمۃ اللہ علیہ  کے دوسر ے شا گر د  اسے ذکر نہیں کر تے  دوسرے شا گر دوں کی روایت  کے الفا ظ یہ ہیں ۔"تم میں کو ئی بھی  اپنے غلا م  کو "عبدی" نہ کہے  بلکہ  خدمت گار کہہ کر آواز دے  اسی طرح  کوئی غلام  اپنے  آقا کو "ربی " نہ کہے  بلکہ وہ سیدی کے الفا ظ استعما ل کرے۔ (مسندامام احمد رحمۃ اللہ علیہ  :2/443)

اس وضا حت سے بلا اضا فہ  روایت  کے محفوظ  ہو نے  کا پہلو  واضح ہو جا تا ہے ۔

(4)اضا فہ والی روایت کی سند یوں ہے :"ابو سعید " الاشج  عن وکیع  رحمۃ اللہ علیہ  ابی صا لح  عن ابی  ہریرۃ  رحمۃ اللہ علیہ  حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے جب ابو صا لح  رحمۃ اللہ علیہ  کے علاوہ  دوسرے شا گر داس روایت کو بیا ن  کر تے ہیں  تو وہ اس اضا فہ کو ذکر نہیں کر تے  ان کی تفصیل  یہ ہے ۔ :

(1) عن العلاء بن عبد الر حمن  ابیہ عن ابی ہریرہ(مسند امام احمد  رحمۃ اللہ علیہ :2/463)

(2) ہشا م  عن محمد بن سیر ین عن ابی ہریرہ(مسند امام احمد  رحمۃ اللہ علیہ 2/491)

(3)ایو ب عن محمد  بن سیر ین عن ابی ہریرہ(مسند امام احمد رحمۃ اللہ علیہ ،2/423)

ان ہر سہ طرق مذکو رہ با لا  اضا فہ  نہیں ہے  حضرت جریر ابن  نمیر  اور یعلیٰ کے سا تھ  ان حضرات  کو ملا نے سے اس با ت کو  تقویت  ملتی ہے کہ مذکورہ اضا فہ غیر  محفو ظ ہے ؛ ہم نے شروع میں ایک حدیث کے حوالے سے لکھا ہے کہ اپنے آقا کو مو لیٰ کہا جا سکتا ہے جبکہ اضا فہ والی روایت میں اس کی صریح  ممانعت  ہے ۔اس صورت حا ل کے پیش  نظر ایک روایت  کو مرجو ع  قرار دئیے  بغیر  تطبیق  کی کو ئی صورت  سا منے  نہیں آتی  محدثین  کرا م  نےا ضا فہ  کے بغیر  صرف  اصل  روایت کو راجح  قرار دیا ہے چنا نچہ حا فظ بن حجر  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں :ہم نے اضا فہ کو کا لعدم قرار  دے کر ترجیح  کی ایک صورت پیدا کی ہے کیوں کہ دو نو ں  روا یا ت  با یں  طو ر  متعارض  ہیں کہ جمع و تطبیق  نا ممکن  ہے اور تا ریخ کا بھی علم نہیں تا کہ ایک نا سخ  اور دوسری منسو خ   قرار دیا جا ئے ۔(فتح البا ری :5/180)

اس طرح  علا مہ  نو و ی   رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں :کہ  راویا ن  حدیث    نے حضر ت اعمش سے اس لفظ  یعنی  مو لیٰ  کو نقل  کر نے  میں اختلا ف کیا ہے  بعض ذکر کر تے ہیں  جبکہ کچھ دوسر ے ذکر نہیں کر تے  ہما رے نز دیک اس اضا فہ  کا خذف کر دینا  زیادہ صحیح ہے ۔(شرح نو وی 2/238طبع ہند

مذکو رہ با لا  تصر یحا ت  کی روشنی  میں ان  دو ثقہ راویوں  ابو معا ویہ اور  ابو سعید  الاشج  کا یہ اضا فہ  شاذ اور غیر  محفو ظ  معلوم ہو تا ہے  اور انہی  الفا ظ پر مما نعت  کی بنیا د  ہے ۔(واللہ اعلم بالصواب)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص29

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)