فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11199
(04) طاغوت کی صورتیں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 14 April 2014 01:05 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

راو لپنڈی  سے رانا اختر   لکھتے  ہیں کہ طا غو ت کسے کہتے  ہیں  مو جو د  دور میں طا غو ت  کی کیا  صورتیں  ہیں اور اس سے  کیو نکر  مخو ظ  رہا  جا سکتا ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لغت کے اعتبا ر سے  طا غو ت  ہر اس  شخص  کو  کہا  جا تا  ہے جو حدود  سے تجا وز کر جا ئے  قرآن  کر یم  کی اصطلا ح میں طا غو ت سے مرا د وہ بندگی کی حد سے تجا وز کر کے خو د آقا ئی  کا دم  بھر  ے اور اللہ  کے  بندوں سے اپنی  بند گی  کر ائے ۔ اللہ کے مقا بلہ  میں بند ے  کی سر کشی  کے تین  مراتب حسب ذیل ہیں ۔

 (1)بند ہ اصولاً اس کی اطا عت کو ہی حق خیا ل  کر ے مگر عملاً اس  کے احکا م  کی خلا ف  ورزی کر ے  اس کانا م قرآنی  اصطلاح  میں فسق  ہے ۔ 

 (2) بندہ  اس کی فر ما نبراداری  سے اصو لاً مخرف ہو کر یا تو خو د مختا ر  بن  جا ئے  یا اس  کے  علاو ہ  کسی دوسرے  کی بندگی  کر نے  لگے  یہ کفر  ہے ۔

(3)وہ اپنے ما لک  سے با غی ہو کر اس کے ملک  میں  اور  اس کی  رعیت  میں  خو د  اپنا  حکم  چلا نے  لگے  اس  آخری  مر تبے  پر جو  بندہ  پہنچ  جا ئے  اس کانام  طا غوت  ہے ۔ کو ئی  شخص صحیح  معنوں میں اللہ کا  حقیقی  بندہ نہیں ہو سکتا جب تک وہ  اس طا غو ت کا منکر نہ ہو اور اللہ کی بندگی سے منہ موڑ کر  انسا ن صرف ایک طاغو ت کے چنگل میں ہی  نہیں پھنسا  بلکہ  بہت  سے طواغیت  اس پرمسلط ہو جا تے ہیں  ایک طا غو ت  شیطا ن  ہے جو  اس کے سامنے نت جھوٹی  تر غیبا ت  کا سدا بہا ر سبز با غ  پیش کر تا ہے   دوسرا طاغوت آدمی کا اپنا نفس  ہے جو اسے خوا ہشا ت  کا غلا م  بنا کر  زندگی  کے  ٹیڑھے  راستوں پر دھکیل  دیتا ہے  ان کے علا وہ  بے شما ر  طا غو ت  با ہر  کی دنیا  میں پھیلے  ہو ئے ہیں  بیو ی اور بچے  اعزہ اقربا  برادری  خا ندان  دوست  اور آشنا  سو سا ئٹی  اور قو م  پیشوا  اور راہنما  حکو مت  اور حکا م  یہ سب بندے کے لئے  کبھی  طا غو ت  کی حیثیت  اختیا ر کر جا تے ہیں اور اس سے اپنی اغرا ض  کی بند گی  کرا تے  ہیں  پھر  بے شما ر  آقا ؤ ں کا یہ غلا م  سا ری  عمر اس چکر  میں پھنسا رہتا ہے کہ کس آقا  کو خو ش  کر ے اور کس کی ناراضگی سے محفو ظ رہے  مختصر  یہ ہے  کہ طا غو ت  ہر وہ با طل  قوت  ہے  جو اللہ  کے مقا بلہ میں اپنی  عبا دت  یا اطا عت  کرا ئے  یا لو گ  از خو د  اللہ کے مقا بلہ  میں اس کی اطاعت  کر نے  لگیں  خو اہ  وہ مخصوص  شخص  ہو یا  ادارہ  گو یا طاغو ت  سے مراد دنیا  دار  چو د ہدی  اور  اور حکمرا ن بھی ہو  سکتے ہیں بت شیطا ن  اور جن  بھی ہو سکتے ہیں  اور ایسے پیر فقیر بھی ہو سکتے ہیں  جو اللہ کے مقا بلہ میں  اپنی اطاعت  کرو انا  پسند کر تے ہیں اور شر یعت پر طریقت کو تر جیح  دیتے ہیں اس طرح ہر انسا ن کا اپنا نفس  بھی  طا غو ت  ہو سکتا ہے  جبکہ وہ اللہ کی اطاعت  و عباد ت  سے انحراف کر رہا  ہو ان سے محفو ظ  رہنے  کی صرف  ایک ہی صورت  ہے کہان  سب کا انکا ر  کر دیا جائے  جیسا کہ ارشاد با ر ی تعا لیٰ  ہے  ۔اب جو  شخص طا غو ت سے  کفر کر ے  اور اللہ  پر ایمان  لا  ئے  تو اس نے ایسے مضبو ط حلقہ  کو  تھا م لیا  جو ٹو ٹ  نہیں سکتا ۔(2البقرہ256۔)

دوسر ے مقا م پر ارشا د فر مایا : جو لو گ طا غو ت کی  عبا دت کر نے سے بچتے رہے  اور اللہ  کی طرف رجو ع کیا  ان کے لئے  بشا رت  ہے لہذا  آپ میرے  بندو ں  کو خو ش خبر ی دے دیجیے  جو با ت  کو تو جہ  سے سنتے  ہیں پھر اس کے بہتر ین پہلو کی پیر وی کر تے ہیں ۔ یہی وہ لو گ ہیں جنہیں اللہ نے ہدا یت بخشی  اور یہ عقل  مند ہیں ؛"

(39/الزمر:18)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص28

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)