فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11197
(02) عرش پر کلمہ طیبہ کا لکھا ہوا ہونا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 14 April 2014 12:59 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ملتا ن سے کرا م اللہ  پو چھتے ہیں کہ کیا یہ صحیح ہے  کہ عر ش پر کلمہ  طیبہ لکھا ہو ا ہے  اگر کسی  حد یث  میں ہے  تو حو الہ  دیں ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عر ش  پر  کلمہ طیبہ  کا ذکر  ایک طو یل حدیث میں آیا  ہے کہ جب حضرت آدم   علیہ السلام  نے غلطی کا ارتکا ب  کیا تو اللہ تعا لیٰ  سے با یں  الفاظ  دعا کی : اے اللہ ! میں تجھ سے محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کے وسیلہ  سے سوال  کرتا  ہو ں  اللہ تعا لیٰ  نے فر ما یا  :  میں نے  تو ابھی  محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کو  پیدا نہیں کیا تو نے  کیسے  اس کا نا م لے لیا؟ اس پر حضرت آدم نے  علیہ السلام عرض کیا  کہ میں نے تیر ے عرش پر (الا اله الا الله محمد رسول الله ) "لکھا  دیکھا ہے ۔ "(مستدرک  حا کم  : ج 2،ص 615)

پھر امام  حا کم  رحمۃ اللہ علیہ   نے اس پر بایں  الفا ظ  تبصرہ کیا ہے کہ  اس کی سند  صحیح ہے  اور یہ پہلی روا یت  ہے جو اس کتا ب  میں  عبد الر حٰمن  بن زید  بن اسلم  کے حوا لے سے درج کی ہے  اس تبصرہ کے متعلق  علا مہ  زہنی  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں :  بلکہ یہ روا یت خو د سا ختہ  اور بنا وٹی ہے عبدالرحمٰن  راوی  وا ہی تبا ہی  مچا نے وا لا ہے  اس کے علا و ہ  عبد اللہ بنا مسلمہ  الفہری  کے متعلق بھی نہیں جا نتا کہ وہ کو ن ہے  جس پر اس روا یت کا دارو مدا ر  ہے :  بہرحا ل  یہ روا یت مو ضو ع  ہے ۔علا مہ  البا نی  مرحوم  نے بھی اسے موضو ع لکھا  ہے ۔ تفصیل کے  لئے دیکھئے  ۔

(الاحا دیث  الضعیفہ والمو ضو عہ : (1/38) واللہ اعلم ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص27

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)