فتاویٰ جات: عقیدہ و منہج
فتویٰ نمبر : 11196
(01) عقیدہ و توحید
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 14 April 2014 12:55 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میلسی سے عبد القہا ر لکھتے ہیں کہ ہما رے ہا ں  عقیدہ کے متعلق  بہت  زور دیا جا تا ہے ۔ آخر یہ عقیدہ کیا ہے ؟جس کے متعلق  اتنی تا کید کی جا تی  ہے کہ اس کی صحت کے بغیر  کو ئی عمل  بھی  صحیح نہیں ہو گا ۔ ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لغو ی طو ر پر لفظ عقیدہ  "عقد"سے بنا ہے  جس کا معنی  جو ڑ نا  اور مضبو ط  کر نا ہے  قرآن کر یم  میں متعد د مقا ما ت  پر مختلف  معنو ں میں یہ لفظ  استعما ل ہوا ہے مثلاًَ

(1)زبان کی گرہ :﴿وَاحلُل عُقدَةً مِن لِسانى ﴿٢٧﴾... سورةطه

"اے اللہ !میر ی زبا ن   کی گرہ کو کھو ل د ے ،"

(2)عقدنکاح:﴿وَلا تَعزِموا عُقدَةَ النِّكاحِ...﴿٢٣٥﴾... سورةالبقرة

"عدت پو ری ہو نے تک عقد نکا ح کا عزم نہ کرو ۔"

(3)دھا گے میں گرہلگانا:﴿ النَّفّـٰثـٰتِ فِى العُقَدِ ﴿٤﴾... سورةالفلق

"دھا گے  مین  گرہ  لگا نے  وا لی عو رتو ں کی پھو نک جھا ڑ ۔

(4) مضبو ط قسم :﴿بِما عَقَّدتُمُ الأَيمـٰنَ...﴿٨٩﴾... سورةالمائدة

"جن قسموں  کو تم  نے مضبو ط  کیا ،:

(5)عہدو پیما ن :﴿أَوفوا بِالعُقودِ...﴿١﴾... سورةالمائدة

اپنے عہد و پیما ن  کو پو را  کر و۔"

چا در با ند ھنے کےلئے  عقدازار استعمال ہو تا ہے نیز خرید و  فرو حت  اور با ہمی  لین دین  کے  معا ملا ت  کو بھی  عقد  کہا جا تا ہے  الغرض  عربی زبا ن میں مضبو طی  اور پختگی کے معنی کو ادا کر نے کےلئے  اس لفظ کا استعما ل ہو تا ہے ۔ شرعی اصطلاح میں عز م  بالجزم اور پختہ ذہن  پر عقیدہ کا اطلا ق  ہو تا  ہے خوا ہ ذہن کی پختگی حق پر باطل  پر اگر زہنی مضبو طی حق پر ہے تو عقیدہ  صحیح کہلا تا ہے جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ  تثلیت پر مضبو ط  ہو نا  الغر ج عقیدہ  یہ ہے کہ انسا ن کسی چیز  پر پختہ  یقین  رکھے  اور اسے  دین  کے طو ر  پر  اپنا ئے  قطع نظر  کہ وہ چیز  حق باطل  دین اسلام  میں صحیح  عقیدہ  میں  درج ذیل  با تیں آتی ہیں ۔

ا(الف) اللہ ،اس کے فر شتوں رسولوں کتا بو ں یو م آخر ت  اور اچھی  یا بر ی  تقد یر  پر پختہ یقین  رکھنا ۔

(ب) جو کچھ  قرآن  یا سنت  صحیح سے ثا بت ہے اس پر ایمان  لا نا خوا ہ ان کا تعلق  اصول  ایما ن  سے ہو یا  ارکا ن  اسلام سے خوا ہ وہ  اوامر  ونو اہی  پر مشتمل  ہو یا  اخبا ر  مغیا ت  پر ۔اس میں تو حید ایما ن  ۔امو ر  غیب  نبوت  و رسا لت  قضا  و قد  ر احکا م  و اخبا ر  آجا تے  ہیں  اس کے  علا وہ  اللہ  کے لئے  کسی سے  محبت  کرنا  دشمنی  رکھنا  صحا بہ کرا م  رضوان اللہ عنہم اجمعین   کا احترا م بھی عقیدہ  کا حصہ ہے محدثین  عظا م نے اس مو ضو ع کو نکھا ر نے کے لئے  کئی ایک نا م  استعمال  کیے ہیں۔مثلاً!

(1) تو حید:امام بخا ری رحمۃ اللہ علیہ ۔ابن مندہ اور امام ابن خزیمہ  رحمۃ اللہ علیہ کی کتا ب  التوحید میں اسی مو ضو ع کو بیا ن کیا گیا ہے ۔

(2)الا یمان : حا فظ ابن  تیمیہ  رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی تا لیف کتا ب الایمان  میں عقیدہ سے متعلق  مبا حث بیا ن  کئے ہیں ۔

(3)السنۃ :محدث ابن ابی  عا صم  رحمۃ اللہ علیہ  نے کتا ب  السنۃ  میں عقیدہ  کے حقائق  سے بحث  کی ہے ۔ان کے علاوہ الشر یعہ  اور اصو ل  الدین  کے نا م سے بھی اسے مو سو م کیا جا تا ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اصحاب الحدیث

ج1ص26

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)