فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11176
(725) حمل کی مدت کم ازکم چھ ماہ ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 10 April 2014 10:51 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک سال تک اپنی بیوی سے غائب رہا اور اسے یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ میں کہاں ہوں ۔ طویل مدت کے بعد جب میں واپس آیا تو آٹھ ماہ پچیس دن تک اس کے ساتھ رہا اور اسی دوران میں اس نے بچے کو جنم دیا تو نویں مہینے کے پورے ہونے سے پانچ پہلے اس نے بچے کو جنم  دینے کی وجہ سے مجھے شک ہے ، آپ رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عورت اگر نو ما ہ سے کم مدت میں بچےکو جنم دےدے تو شک نہیں ہونا چاہیے کیونکہ حمل کی  ازکم مدت چھ ماہ ہے جیساکہ اللہ سبحانہ وتعالی نے فرمایا ہے :

﴿وَحَملُهُ وَفِصـٰلُهُ ثَلـٰثونَ شَهرً‌ا...﴿١٥﴾... سورةالاحقاف

’’اور اس کا حمل اور دودھ چھڑانابیس مہینے ہے ۔‘‘ اور فرمایا :

﴿وَفِصـٰلُهُ فى عامَينِ... ﴿١٤﴾... سورةلقمان

’’اور دو برس میں اسکا دودھ چھڑانا ہوتا ہے ۔‘‘

اس سے معلوم ہواکہ حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے ، لہذا اگر عورت ساتویں ماہ یا اس کےبعد بچےکو جنم دے تو اس میں شک کی کوئی بات نہیں ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص546

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)