فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11140
(688) تورات اور انجیل کے اقتباسات کی اشاعت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2014 01:39 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بعض مجلات تورات کےکچھ اقتباسات اکثر و بیشتر شائع کرتے رہتےہیں ،کیا ان اقتباسات کو پڑھنا جائز ہے۔ رسول اللہ ﷺ نےحضرت عمر بن خطاب ﷜ کو تورات پڑھنے سےمنع فرمادیا تھاتویہ اس بات کی دلیل ہےکہ اسے پڑھنا حرا م ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حقیقت یہی ہےکہ ان مجلات کوتورات  یا انجیل میں سےکچھ بھی نقل نہیں کرناچاہے الا یہ کہ کوئی ایسی چیز ہو جس سےنبی اکرم ﷺ کی رسالت کاثبوت کااثبات ہوتاہو یا ان کے انکار کی تکذیب ہوتی ہو تویہ ایک اچھی چیز ہو گی ، لیکن ہدایت طلب کرنےیا پیرو یاختیار کرنےکےلیےان میں سے کچھ نقل کرنا حرام ہے کیونکہ ہمیں اللہ تعالی کی نازل کردہ دیگر آسمانی کتابوں کی ضرورت نہیں ہے ،ہمیں بس قرآن ہی کافی ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص523

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)