فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11127
(675) بچے کا نام رکھنے کی تقریب
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 09 April 2014 10:50 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیابچے کےنام رکھنے کے موقع پراحباب ،پڑوسیوں اور دوستوں کا جمع ہوا جائز ہےیا ایسی تقریب کو بدعت اور کفر قرار دیا جائے گا ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بچےکےنام رکھنے کے موقع پر تقریب کاانعقاد کرنا نبی اکرم ﷺ کی سنت نہیں ہے اور نہ حضرات صحابہ کرام ﷢ کے عہد میں کبھی ایسا ہواتھا ، جو شخص اسلامی سنت سمجھ کر ایسی تقریب منعقد کرے تو اس نے دین میں ایک ایسی چیز ایجاد کی جس کا دین سےتعلق نہیں ہے ، لہذا یہ بدعت ہونے کی وجہ سے مردود ہوگی کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :

«مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ، فَهُوَ رَدٌّ» (صحیح البخاری ، الصلح ،باب اذا اصطلحواعلی صلح جور فالصلح مردود ، ح : 2697 وصحیح مسلم ، الاقضیه ،باب نقض الاحکام الباطة ۔۔۔۔الخ ح : 1718 وللفظ له )

’’جو شخص ہمارےاس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کرے جو دین میں سے نہ ہو تو وہ مردود ہے۔‘‘

لیکن یاد رہے کسی ایسی تقریب کاانعقاد کفر نہیں ہے اور اگر کوئی شخص خوشی اور مسرت یا  عقیقہ کی دعوت کے لیے تقریب کا انعقاد کرے اور اسےسنت قرار نہ دے تو اسمیں کوئی حرج نہیں کیونکہ نبی ﷺ سےیہ ثابت ہے کہ ساتویں دن بچے کا عقیقہ کیا جائے اور اس کانام رکھا جائے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص511

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)