فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11112
(660) فلاں شخص کا اپنے آپ پر اعتماد ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 08 April 2014 04:10 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ کہنا کہ ’’فلاں  شخص کااپنےآپ پر اعتماد ہے ‘‘ یہ کیساہے؟ کیا یہ مسنون دعا کے ان الفاظ کےمنافی تو نہیں ہے ، جن کے معنی ہیں کہ ’’اے اللہ ! مجھے ایک لمحہ کے لیے بھی میرے نفس کے سپرد نہ کرے ؟ ‘‘


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ان الفاظ کے کہنےمیں کوئی حرج نہیں کیونکہ قائل کی اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ فلاں شخص کو اس بارے میں پورا اعتماد اور وثوق حاصل ہے ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انسان کی طرف بسا اوقات بعض چیزوں کی نسبت یقین سےکی جاتی ہے ،بعض کی ظن سے ،بعض کی شک اور تردد سے اور بعض کی بطور مرجوح کے ۔ لہذا جب کوئی یہ کہے کہ ’’مجھے اس کا پورا اعتماد ہے ‘‘ ، یا’’مجھے اپنےنفس پر پورا بھروسہ ہے ۔ ‘‘ یا ’’فلاں شخص کو اپنے آپ پر اعتماد ہے ۔ ‘‘ یا ’’ جو وہ کہتا ہے ،اسپراسے پورا پورا اعتمادہے ‘‘ لہذا اس طرح کے اسلوب کلام میں کوئی حرج نہیں اور نہ یہ اس مشہور دعا کے خلا ف ہے :

(فلا تکلنی الی نفسی طرفۃ عین ) ( سنن ابی داؤد ، الادب ،باب مایقول اذا اصبح ،ح : 5090)

 کیونکہ انسان اپنے نفس پر اعتماد کرتا ہے تو وہ اللہ تعالی کے ساتھ اور اس کے عطا کردہ علم و قدرت کے ساتھ ہوتا ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص502

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)