فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11109
(657) لفظ’’مبروک ‘‘ کے ساتھ مبارکباد دینا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 08 April 2014 03:37 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مبارک باد کے وقت  لفظ ’’مبروک ‘‘ استعمال کرنےکےبارےمیں کیا حکم ہے کیونکہ کہا جاتاہےکہ یہ ’’بروک ‘‘ سےماخوذ ہے مثلاآپ کہتے ہیں کہ برک الجمل (اونٹ  بیٹھا ) اور مبارک کےمعنی میں نہیں ہے ،جو برکت سے ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لفظ ’’مبروک ‘‘ کا برکت سےہونا درست ہےکیونکہ فعل رباعی ’’بارک‘‘ سے یہ کہا جاتاہے کہ ’’ہذا مبارک‘‘ اورفعل ’’برک ‘‘ سے یہ کہا جاتا ہے کہ ’’ہذامبروک ‘‘ گویا عرفی لغت میں یہ لفظ ’’مبارک ‘‘ ہی کےمعنی میں ہے ۔ میرے خیال میں صرفی قواعد کے اعتبار سےیہ صحیح نہیں ہے کہ ’’مبروک ‘‘ ’’برک ‘‘ سےمشتق ہےکیونکہ برک فعل لازم ہے اور فعل لازم سے اسم مفعول حرف جر کے ساتھ معتدی ہوتا ہے ،یہی وجہ ہے کہ کہاجاتاہےکہ ’’برکت الناقۃ فہی بارکۃ ‘‘ تو اسے ’’مبروکۃ ‘‘ نہیں کہتے ۔ اسی طرح کہاجاتا ہےبرک ناقتہ فہی مبرکۃمبروکۃنہیں کہا جاتا ۔ گویا برک فعل لازم سےصیغہ مفعول از روئے لغت حرف جر کے بغیر استعمال کرنا صحیح نہیں ہے اور اسے حرف جر کے بغیر استعما ل کیا جاتاہے جیسا کہ عوام میں معروف ہے اور جب مادۂ اشتقاق موجود ہے اور یہ ہے ’’با ء ، راء اور کاف جو برکت کےاصلی حروف ہیں لہذا میری رائے میں مبارک کے معنی میں لفظ مبروک استعما ل کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص500

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)