فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11107
(655) جن کے انسان کےجسم میں داخل ہونے کی دلیل
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 08 April 2014 03:30 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ایسی کوئی دلیل ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ جن انسان کے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہاں کتاب وسنت کے دلائل سےمعلوم ہوتا ہے ہ جن انسانوں کے جسم میں داخل ہوسکتےہیں مثلا قرآن کریم میں ہے :

﴿الَّذينَ يَأكُلونَ الرِّ‌بو‌ٰا۟ لا يَقومونَ إِلّا كَما يَقومُ الَّذى يَتَخَبَّطُهُ الشَّيطـٰنُ مِنَ المَسِّ... ﴿٢٧٥﴾... سورةالبقرة

’’جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ ( قبروں سے ) اس طرح ( حواس باختہ ) اٹھیں گے ، جیسےکسی کو جن نے لپیٹ کر دیوانہ بنا دیا ہو۔ ‘‘

حافظ ابن کثیر ﷫ فرماتے ہیں کہ یہ لوگ قیامت کے دن اپنی قبروں سے اسطرح خواس باختہ اٹھیں گے جسطرح آسیب زدہاس وقت اٹھتا ہے جب وہ حالت آسیب میں ہو اور شیطان نے لپٹ کر اسے دیوانہ بنا دیا ہو اور سنت سے اس دلیل یہ ہےکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے :

( ان الشیطان یجری من ابن آدم مجری الدم ) ( صحیح البخار ی، الاعتکاف ، باب ہل یدرا المعتکف عن نفسه ؟ ،  ح : 2039 وصحیح مسلم ،السلام ، باب بیان انه یستحب رؤی خالیا بامراة ۔۔۔الخ ، ح 2175 )

’’شیطان ابن آدم میں اس طرح گردش کرتا ہے جس طرح خون ۔‘‘

امام شعری نے ’’مقالات اہل السنہ والجماعۃ‘‘ میں لکھا ہے کہ اہل سنت کا قول یہ ہے کہ جن آسیب زدہ جسم میں داخل ہو سکتاہے ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں استدلال سابقہ آیت ہی سے کیا ہے ۔ عبداللہ بن امام احمد بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی کی خدمت میں عرض کیا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جن انسان کے بدن میں داخل نہیں ہوسکتا ، تو آپ نے فرمایا : بیٹا ! یہ لوگ غلط کہتے ہیں ۔ جن تو انسان کے جسم داخل ہو کر اس کی زبان سے باتیں بھی کرتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی ایسی کئی احادیث سے ثابت ہے کہ ایک آسیب زدہ بچے کو آپ کی خدمت میں لایا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :

( اخرج  عدو الله ففعل ذلک ثلاث مرات ) ( سنن ابن ماجه ، الطب ، باب الفزع والارق وما یتعوذ منه ، ح : 3548)

’’اے اللہ کےدشمن نکل جا ! آپ نے تین باراس طرح کیا۔‘‘

حدیث کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں کہ آپنے فرمایا:

( اخرج عدو اللہ انا رسول اللہ ) ( مسند احمد : 4؍171، 172)

’’اے اللہ کے دشمن نکل جا ! میں اللہ کا رسول ہوں ۔‘‘

آپ نے جب یہ فرمایا تو بچہ فورا تندرست ہو گیا تو جیسا کہ آپ نے ملا حظہ فرمایا اس مسئلہ میں یہ ایک دلیل قرآن کریم سے ہے اور دو دلیلں سنت مطہرہ سے ۔ علاوہ ازیں اہل سنت والجماعۃ اور آئمہ سلف کا بھی یہی قول ہے اور حالات و واقعات سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے ، لیکن ہم اس بات کے منکر نہیں ہیں کہ جنوں کا کوئی اور سبب بھی ہو سکتا ہے مثلا وعصابی تناؤ یا دماغی عدم توازن وغیرہ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص498

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)