فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11099
(647) شیطانی وسوسوں کی طرف دھیان نہ دو
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 08 April 2014 03:06 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک مسلمان اورمتدین نوجوان ہوں لیکن تشکیک میں مبتلا ۔ وضو کرتے ہوئے مجھےشک پڑ جاتاہےکہ میں نے شائد اچھی طرح وضو نہیں کیا لہذامیں دوبارہ وضو کرنے لگ جاتا ہوں ۔ اسی طرح جب میں باہر ہوتا ہوں تو اس شک کی وجہ سےمیں گوشت نہیں کھاتا کہ شائد انہیں غیر اسلامی طریقے سے ذبح کیا گیاہو ۔اسی طرح میں بسکٹ اور ناشتہ میں استعمال ہونے والی دیگر چیزیں بھی نہیں کھاتا کیونکہ مجھے سک یہ ہوتات ہے کہ شائد انہیں ایسی گائے کے گھی سےبنایاگیاہے ، جسےاسلامی طریقےکے مطابق ذبح نہیں کیا گیاتھا ۔الغرض میں اس طرح کے بہت سےاوہام و شکوک میں مبتلا ہوں ۔ میرے بڑے بھائی نے اس طرح کے شکوک سےدور رہنے کی مجھے نصیحت بھی کی ہے مگر ان کی نصیحت بھی کارگر ثابت نہیں ہوئی ، لہذا سوال یہ ہےکہ میں کیا کروں ؟ اور اگر میں سو جاؤں تو پھر مجھے نماز کی پروانہیں ہوتی ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وہ شکوک جو عبادات اور معتقدات حتی کہ ذات باری تعالی کے بارےمیں دل میں پیداہوتےہیں ، یہ سب کے سب شیطان کی طرف سےہوتے ہیں ، حضرات صحابہ کرام ﷢ نے جب نبی اکرم ﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیاکہ ان کے دلوںمیں ایسے ایسے خیالات آتےہیں کہ جنہیں وہ بیان نہیں کرسکتے تو نبی اکرم ﷺ نے ان سےفرمایاتھا کہ یہ تو خالص ایمان ہے ۔(صحیح مسلم ، الایمان ، باب الوسوسۃ فی الایمان وما یقولہ من وحدھا ، حدیث :132 ،133) اس لیے کہ شیطان اس طرح کے شبہات اس دل میں پیدا کرتا ہےجسمیں پہلے سےکوئی شبہ موجود نہ ہو ،تاکہ وہ اس  کے پیدا کردہ شبہ کے بارے میں اس کی اطاعت شروع کردےاور جس شخص کا دل پہلے ہی شبہات سےبھرا پڑا ہو ، یا دین سےخالی ہو تو ایسے دل میں شیطان وسوسے نہیں ڈالتا کیونکہ اس سے وہ فارغ ہو چکا ہوتا ہے ۔ ہم اس نوجوان سےیہ کہیں گے کہ اس پر واجب یہ ہے کہ وہ شیطان سےاللہ کی پناہ مانگے اور وضو ، نماز اور دیگر امور کے بارے میں اپنے ذہن میں پیدا ہونے والےوسوسوں کی طرف توجہ نہ دے ۔ شکوک و شبہات کا پیدا ہونا جہاں ایما ن کے  خالص ہونےکی  دلیل ہے ، وہاں ان شکوک و شبہات کےساتھ ساتھ  چلتے جانا عزیمت اور استقامت کی کمزوری دلیل بھی ہے ۔

ہم اس نوجوان سے یہ کہیں  گے کہ یہ شک بلا وجہ ہے کیونکہ آپ جب خرید وفروخت  کے لیے بازار میں چلے جاتے ہیں تو کیا آپ کو کسی چیز کےبارے میں شک ہوتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہے کیونکہ اس طرح کے امور کے بارے  میں شیطان انسان کے دل میں وسوسہ پیدا نہیں کرتا ۔ البتہ وہ عبادت میں ضرور وسوسہ ڈالتا ہےتاکہ وہ  انہیں خراب کردےلہذاجب شکوک و شبہات کی کثرت ہو جائےتو ان کی طرف توجہ نہ دیں ۔اسی طرح جب عبادت سےفراغت کے بعد شک ہو تو اس کی طرف بھی کوئی دھیان نہ دیں الا یہ کہ کسی کمی وبیشی کایقین ہو ۔

’’ فعل کےبعد شک اثر انداز نہیں ہوتا ، اسی طرح جب شکوک کی کثرت ہو جائے تو وہ بھی مؤثر نہیں ہوتے ۔‘‘

کھانے پینے کی وہ اشیاء جو اصل میں حلال ہیں ، ان کے بارے میں بھی شک کا کوئی اعتبار نہیں ۔ خیبر میں ایک یہودی عورت نےرسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک بکری کاتحفہ پیش کیا توآپ نےاس  کے گوشت کو کھالیاتھا (صحیح البخاری ،الہبۃ وفضلہا والتحریض علیہا ، باب قول الہدیۃ من المشرکین ، حدیث 2617 ) اسی طرح  ایک یہودی نے جب آپ کی دعوت کی اور اس میں جو کی روٹی اور باسی چربی پیش کی تو آپ نے اسے بھی کھا لیا تھا۔( صحیح البخاری ،البیوع ،باب شراء النبیﷺ بالنسیئۃ ،حدیث : 2069)

صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ کچھ لوگوں نے جو نئے  نئے مشرف بہ اسلام ہوئے تھے ، مسلمانوں کی ایک جماعت کو گوشت کا تحفہ دیا تو انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کچھ لوگ ہمائےپاس گوشت لے کر آتے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ اس پر اللہ کانام لیا گیا ہے یا نہیں ؟ تو آپ  نے ان سےفرمایا:

(سمواعلیه انتم وکلوه ) ( صحیح البخاری ، الذبائح والصید ، باب ذبیحة الاعراب ، ونحوهم  ح : 5507 )

’’تم اس پر اللہ کانام لے لیا کرو اور اسےکھالیا کرو ۔‘‘

لہذا  جس کا ذبیحہ حلال ہو ، اس کے ذبیحہ کے بارے میں اصول یہ ہے کہ وہ حلال حتی کہ اس کی حرمت کی کوئی دلیل موجود ہو اور جس چیز کو اللہ تعالی نے حلال قرار دیا ہو ،اس کے استعمال سے رک جانا ، بلا وجہ اپنے آپ کو مشقت میں ڈالنا ہے ۔ سائل نے جو یہ کہا ہے کہ وہ جب سوجاتا ہے تو نماز کی پروا نہیں کرتا تو یہ بھی شیطان کی طرف سے ہے ۔ صحیح بخاری میں ہے کہ رسول  اللہ ﷺ کی خدمت میں ذکر کیا گیا کہ ایک شخص سو گیا حتی کہ صبح ہوگئی اور وہ نماز کے لیے نہ اٹھا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :

(ذاک رجل بال الشیطان فی اذنه) (صحیح البخاری ، بدء الخلق ، باب صفة ابلیس وجنوده ، ح: 3270 وصحیح مسلم ، صلاة المسافرین ،باب الحث علی صلاة اللیل وان قلت ، ح : 774 )

’’اس آدمی کے کان میں شیطان نے پیشات کردیا ہے ۔‘‘

شیطان انسان کو گہری نیند میں مبتلا کردیتاہے ، جس کو وجہ سے وہ نماز صبح یا دیگر نمازوں کے لیے اٹھ نہیں سکتا ۔ اس صورت کا علاج اس طرح ممکن ہے کہ ٹائم پیس کا الارم لگا لیا جائے یاکسی دوسرے شخص کہہ دیا جائے کہ وہ اسے بیدار کردے

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص492

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)