فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11075
(623) گھروں کے حشرات کو قتل کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 08 April 2014 11:51 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا گھروں میں  پائے جانے والے کیڑوں مکوڑوںمثلا چیونٹی اور جھینگر وغیرہ کو آگ کے ساتھ جلا دینا جائز ہے  اور اگر جائزنہیں تو پھر ان سے خلاصی کے لیے کیا کرنا چاہیے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ کیڑے مکوڑے اگر ایذاء کا باعث بنیں تو انہیں کیڑے مار دواؤں کے ساتھ ختم کرنا تو جائز ہے لیکن آگ کے ساتھ جلانا جائز نہیں ہے ۔ رول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ’’پانچ جانور ایذاء کا باعث ہیں ، انہیں حل و حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے ۔ اور وہ یہ ہیں ۔ (1) چوہیا ۔2۔ بچھو۔3۔باؤلا کتا ۔4۔ کوا اور ۔5۔چیل ۔اور ایک دوسری حدیث میں چھٹے جانور کے طور پر سانپ کا ذکر ہے ۔ ((صحیح البخاری ،جزاء الصید ، باب ما یقتل المحرم من الدواب ، ح : 1829 وصحیح مسلم ، الحج ، باب ما یندب للمحرم وغیرہ قتلہ من الدواب فی الحل والحرم ، ح : 1198 )

رسول اللہ ﷺ نے ان کے ایذا ء پہنچانے کی وجہ سے انہیں ’’فواسق ‘‘ قرار دیا ہے اور ایذاء نہ پہنچانے والےجانوروں سے انہیں الگ قرار دیتے ہوئے کہ انہیں حل وحرم میں ہر جگہ قتل کیا جاسکتاہے ۔ اسی طرح اگر کچھ اور جاندار مثلا چیونٹی ، جھنینگڑ اور گبریلا وغیرہ ایذاء پہنچائیں تو انہیں بھی کیڑے مار دواؤں سے قتل کیا جاسکتا ہے ،البتہ آگ کے ساتھ نہیں جلانا جاہیے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص472

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)