فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11059
فترۃ الوحی کی مدت اور حکمت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 08 April 2014 10:18 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا انقطاع کتنا عرصہ رہا ،نیز وحی کے رُک جانے کے اسباب کیا تھے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انقطاع وحی کی مدت کے حوالے سے اہل علم کے ہاں مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔بعض تین سال،بعض اڑھائی سال ،بعض چھ ماہ اور بعض چند ایام کے قائل ہیں۔ابن سعدنے سیدنا ابن عباس سے چند ایام نقل کئے ہیں۔اور حافظ ابن حجر نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے۔(فتح الباری:8/710)

اس کے چند ایک اسباب تھے،جو درج ذیل ہیں۔

1۔نبی کریم سے اس خوف کو دور کرنا تھا ،جو پہلی وحی کے موقع پر آپ نے محسوس کیا تھا۔

2۔آپ کو منصب نبوت کی گراں قدر ذمہ داری کی ادائیگی کے تیار کرناتھا۔

3۔وحی کے بارے معترضین کے اعتراضات کو دور کرنا تھا،کہ وحی اگر رک جائے تو نبی کریم اپنے پاس سے کچھ بھی نہیں لا سکتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)