فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11022
(573) اختلاف دین کی صورت میں خون کی منتقلی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 06 April 2014 01:39 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا ایک انسان کا دوسرے انسان کو خون دینا جائز ہے ، خواہ انکا دین الگ الگ ہو ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر کوئى شخص اس قدر شدید بیمار اورکمزور ہو جائے کہ اس کی تقویت یا علاج کےلیے خون دینے کے سوا اور کوئی صورت نہ ہو او رطے یہ پائے کہ  اس کی جان بچائے کا اب یہی طریقہ ہے اور ماہر اطباء کا ظن غالب یہ ہو کہ اس سے مریض کو فائدہ پہنچے گا تودوسرےانسان کے خون دینے کے ساتھ علاج میں کوئی حرج نہیں خواہ دونوں کا دین الگ الگ ہو ۔ کافر خواہ حربی بھی ہو تو اس کا خون مسلما ن کو دیا جاسکتا ہے ۔ اسی طرح غیر حربی کا فر مسلما ن کا خون بھی دیا جاسکتاہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص435

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)