فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11017
(568) کھڑا نہ ہونا بہتر ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 06 April 2014 01:24 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آنے والے شخص کے احترام میں کھڑے ہونے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آنے والے شخص کے احترام میں کھڑے ہونا جائز ہے ، بشرطیکہ یہ شخص اکرام و احترام کا مستحق ہو اور اگر مستحق نہ ہو تو پھر اس کے لیے کھڑ ہونا جائز نہیں ہے ۔ اگر ہم نے اسے جائز قراردیا تو اس کے نہ معنی نہیں کہ کھڑا ہونا یا نہ ہونا برابر ہیں ، کھڑا نہ ہونا زیادہ بہتر ہے ۔ اور لوگوں کو کھڑے نہ ہونے کی عادت ڈالنا ہی اولی اور افضل ہے کیونکہ نبی ﷺ کے عہد میں یہی طریقہ معروف تھا ۔ نبی اکرم ﷺ جب صحابہ ﷢ کے پاس تشریف لاتے تو وہ کھڑےنہیں ہوتے تھے ) کیونکہ وہ جانتے تھے کہ آپ اسے ناپسند فرماتے ہیں ، لیکن وفد ثقیف جب آیا تو نبی کریم ﷺ نے کھڑے ہو کر اس کا استقبال فرمایاتھا ۔ یہ اس با ت کی دلیل ہے موقع و محل کی مناسبت سے کھڑے ہونے میں کوئی حرج نہیں اور اگڑ یہ بلا سبب ہو تو پھر افضل یہ ہے کہ اسے تر ک کردیا جائے ۔ اگر لوگ کھڑا نہ ہونے کی عادت بنالیں تو یہ افضل ہے ، لیکن اب جب کہ لوگوں نے کھڑے ہونے کی عادت بنالی ہے اور آنے والے کے لیے لوگ کھڑے نہ ہوں حالانکہ وہ اس بات کا مستحق بھی ہے تو اس کے دل میں یہ خیال آسکتا ہو کہ لوگوں نے اس کے احترام میں کمی کی ہے ، تو پھر کھڑے ہونے میں کوئی حرج نہیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص432

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)