فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11013
(564) نماز کے بعد سلام کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 06 April 2014 01:09 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نماز خصو صا نما ز فجر کے بعد ایک دوسرے کو سلام کرنے کے با رے میں کیا حکم ہے ؟ میں نے سنا ہے کہ کچھ لوگ اسے بدعت کہتے ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں تو سوال یہ ہے کہ صحیح با ت کیا ہے ؟ راہنمائی فرمائیں ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس بارے میں ہمیں کوئی حد یث معلوم نہیں البتہ نبی ﷺ سے یہ ثابت ہے کہ آپ  نے اس اعرابی کے سلام کا جواب دیا تھا جس نے مسجد میں دا خل ہو کر نما ز پڑ ھی تھی لیکن نما ز صحیح طریقے سے ادا نہیں کی تھی تو نبی ﷺنے اس نے فرمایا تھا :

«ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصَلَّى كَمَا كَانَ صَلَّى، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَعَلَيْكَ السَّلَامُ» ثُمَّ قَالَ: «ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ»(صحیح البخاری ، الاذان باب وجوب القراءة للامام والماموم فی الصلوات کلها ۔۔الخ ، ح 757 ، و صحیح مسلم الصلاة باب وجوب قراءة الفاتحة فی کل رکعة ۔۔۔الخ ح : 397واللفظ له )

’’جاؤ نماز پڑھو ، تم نے نما ز پڑھی ہی نہیں اس نے واپس جا کر نما ز پڑ ھی اور اسی طرح پڑ ھی جس طرح پہلے پڑھی تھی وہ آیا اور اس نے نبیﷺ کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور پھر فرمایا کہ جا و نماز پڑھو تم نے نما ز پڑھی ہی نہیں ۔

یہ حدیث بخا ری و مسلم میں ہے اس سے معلوم ہو ا کہ نبی ﷺ نے اس کے دو سر ی یا تیسری با ر سلام کہنے کی تر دید نہیں فر ما ئی بلکہ اسے بر قرار رکھا اور اس کے سلام کا آپ نے جواب بھی دیا حا لانکہ وہ آپ نے جواب بھ﷫ دیا حا لانکہ وہ آپ کے قریب ہی نما ز پڑ ھ رہا تھا اور آپ سے اوجھل بھی نہ تھا اور پھر آپس میں سلام کہنے سے دلوں میں الفت و محبت بھی پیدا ہو تی ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص427

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)