فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11009
(560) اشارہ و سلام
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 06 April 2014 12:55 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہاتھ کے اشارہ کے ساتھ سلام کرنے کے بار ےمیں کیا حکم ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اشارہ کے ساتھ سلام کرنا جائز نہیں ہے ۔ سنت یہ ہے کہ کلام کے ساتھ سلام کیا جائے اورکلام کے ساتھ اس کا جواب بھی دیا جائے ۔ اشرہ کے ساتھ سلام جائز نہیں کیونکہ اس میں بعض کافروں کے ساتھ مشابہت ہے اور یہ اللہ تعالی کے مقرر کردہ طریقے کے خلاف بھی ہے ، البتہ جس کو اس نے سلام کیا ہو ، اسے کے دور ہونے کی وجہ سے اگر اشارہ کردے تاکہ اسےمعلوم ہو جائے کہ اس نے سلام کیا ہے اور پھر منہ سے بھی سلام کہہ دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، کیونکہ اسکی دلیل موجود ہے ۔ اس طرح جس شخص کو سلام کیا گیاہو ، اگر وہ نماز میں مشغول ہوتووہ بھی اشارہ کے ساتھ جواب دے سکتا ہے ،جیسا کہ نبی ﷺ کی سنت سے یہ ثابت ہے ۔ ( صحیح مسلم ، الصلاۃ ،باب تحریم الکلام فی الصلاۃ ونسخ ماکان من اباحتہ ، حدیث 540)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص426

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)