فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11002
(558) اسلامی القاب
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 05 April 2014 02:59 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم حضرت محمد رسول اللہ کے لیےﷺ ،حضرت موسی عیسی یا کسی دوسرے پیغمبر کےلیے ﷤، حضرت ابو بکر صدیق ، خلفائے راشدین  یا صحابہ کرام میں سے کسی کےلیے ﷜ ، حضرت علی بن ابی طالب کے لیے کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں اس طرح تشہد اول میں کہتے ہیں السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین ۔ سوال یہ ہے کہ مذکورہ بالا شخصیتوں کے ناموں کے ساتھ مذکورہ دعائیہ کلمات کے التزام کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ کیاکسی نیک مسلمان کےلیے بھی ﷜ کے الفاظ استعمال کیے جاسکتے ہیں یا نہیں اورکیوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نبی ﷺ کے لیے صلوۃ و سلام کے حکم آیا ہے ، اس لیے اس حکم کی اطاعت کے لیے ضروری ہے آپ کے اسم گرامی کے سا تھ ہم ﷤کہیں ’ دیگر تمام رسولوں کے لیے بھی ان الفا ظ کا استعما ل جا ئز ہے ’ دیگر رسولوں کے لیے اگر صرف سلام ہی بر اکتفا ء کرلیا جا ئے تو یہ بھی جا ئز ہے ’ ملا ئکہ اور انسانوں کے لیے بھی ﷤ کے الفا ظ استعمال کیے جا سکتے ہیں کیونکہ نبی﷤ فرمایا تھا :

«اللهم صل علی آل ابی اوفی » صحیح البخاری ، الزکاة ،باب صلاة الامام ودعائة لصاحب الصدقة۔الخ ، ح: 1497 وصحیح مسلم ، الزکاة ، باب الدعاء لمن ابی بصدقة ، ح : 1078)

لیکن اسے عا دت نہ بنا یا جا ے ۔حضرات صحابہ کرام ﷢ کے لیے اللہ تعالی نے فرمایا ہے﴿ لَقَد رَ‌ضِىَ اللَّهُ عَنِ المُؤمِنينَ...﴿١٨﴾... سورةالفتح"لہذا ہم بھی اس طرح کہین کے جیسا کہ اللہ تعا لی نے یہ الفا ظ استعمال فرمائے ہیں ’ صحابہ کرام ﷜ کے علا وہ دیگر نیک لوگوں مثلا ائمہ کرام وغیرہ کے لیے بھی ان کا استعمال جائز ہے یہ سب دعا ئیہ کلمات ہیں ۔ حضرت علی ﷜ کے لیے بطور خاص کرم اللہ وجھہ کے الفاظ کے استعمال کی کوئی دلیل نہیں ہے ، ان الفاظ کو صرف رافضہ استعمال کرتے تھےلیکن اسعبارت کو درسروں کے حق میں استعمال کرنا بھی جائز ہے ، جب کہ حضرت علی ﷜ کے لیے بھی باقی صحابہ کرام ﷢ کی طرح ﷜ کے الفاظ استعمال کرنا ہی افضل ہے ﷜۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص425

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)