فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11000
(556) سب سے بیٹے کے نام پر کنیت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 05 April 2014 02:53 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا یہ جائز کہ جس شخص کا نام محمد ہو اسے اے ابو محمد ! کہہ کر بلائیں حالانکہ اس کی کوئی اولاد نہ ہو بلکہ وہ شادی شدہ ہی نہ ہو ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مرد یا عورت کی کنیت اولاد کےبغیر بھی جائز ہے بلکہ کسی ادنی سےتعلق کی بنیاد پر بھی کنیت جائز ہے جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ کی کنیت اس بلی کی وجہ سے تھی ، جسے انہوں نے اٹھایا ہوا تھا ۔ غیر شادی نوجوانوں کی اس باپ وغیرہ کے نام پر کنیت رکھنا جائز ہے لیکن  افضل یہ ہے کہ سچ ہی اختیار کیا جائے اور بڑے بیٹے کےنام پر کنیت رکھی جائے ، اسی طرح عورت کے بارےمیں بھی یہی کہا جائے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کنیت ام عبداللہ رکھی تھی اور یہ کنیت آپ کے بھانجے عبداللہ بن زبیر کےنام پر تھی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص424

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)