فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 11
(111) صلی اللہ علیہ وسلم اور رضی اللہ عنہ کلمات کی تخصیص
شروع از بتاریخ : 18 September 2011 12:26 PM
السلام عليكم ورحمۃ الله وبركاتہ

 کیا یہ دعائیہ کلمات مثلاً صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور شخص کے لیے اور رضی اللہ عنہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے علاوہ دوسرے لوگوں کے لیے استعمال کرسکتےہیں؟


 الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

علما کی اصطلاح  میں صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کے لیے ’ علیہ السلام ‘ کے الفاظ، ’ رضی اللہ عنہ‘ کے الفاظ صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے اور’رحمہ اللہ‘ کے الفاظ تابعین، تبع تابعین اور ائمہ سلف صالحین رحمہم اللہ اور کسی بھی زندہ ومردہ مسلمان کےلیے ہیں۔ لہذا عرفی استعمال کے اعتبار سےان اصطلاحات کا لحاظ رکھنا لازم اور مبنی بر احتیاط ہے۔ اگرچہ ان کی کبھی کبھارمخالفت ، خلاف شریعت نہیں ہے۔ فتویٰ کمیٹی کا فتویٰ ہے:

 أولاً : الدعاء بـ ( صلى الله عليه وسلم ) ليس خاصاً بنبينا محمد صلى الله عليه وسلم ، بل هو لجميع الأنبياء عليهم الصلاة والسلام .

ثانياً : الدعاء بـ : ( رضي الله عنه ) اصطلح أهل العلم على جعل هذا الدعاء شعاراً للصحابة رضي الله عنهم ، ولو دعا به الإنسان احیانالأحد من المسلمين فلا حرج .

ثالثاً : الدعاء بـ : ( رحمه الله ) و ( سلمه الله ) دعاء مشروع يدعى به للمسلم الحي والميت. وبالله التوفيق ، وصلى الله على نبينا محمد وآله وصحبه وسلم"انتهى (فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والإفتاء)(24/160) .

پہلی بات تو یہ ہے کہ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔ بلکہ تمام انبیاء کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ اہل علم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کے لیے خاص کر دیے ہیں۔ اور اگر  کبھی کبھار کسی اور مسلمان کے لیے بھی استعمال کر لے تو کوئی حرج نہیں ہے۔تیسری بات یہ ہے کہ رحمہ اللہ اور سلمہ اللہ کے الفاظ کسی بھی زندہ ومردہ مسلمان کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ اللہ کی توفیق کے ساتھ، اور ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ پر رحمت ہو اور سلامتی ہو۔

امام ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب جلاء الافہام میں اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اہل علم کا اس بات میں اختلاف ہے کہ علیہ السلام کے الفاظ غیر نبی کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں یا نہیں۔ایک جماعت اس کو مکروہ قرار دیتی ہے جبکہ دوسری جواز کی قائل ہے۔ مانعین نے تقریباً ۱۰ دلائل کا ذکر ہے جبکہ قائلین نے ۱۴ دلائل کا ذکر کیا ہے۔

اسے مکروہ قرار دینے والوں میں ابن عباس ،طاوس ،عمر بن عبد العزيز ،أبو حنیفہ،مالك،سفيان بن عيينہ،سفيان الثوري رحمہم اللہ اور شوافع کی ایک جماعت شامل ہے۔جواز کے قائلین میں حسن بصری، مجاہد، مقاتل بن حیان، احمد، اسحاق بن راہویہ، ابو ثور، ابن جریر طبری  رحمہم اللہ اور مفسرین کی ایک جماعت ہے۔ (جلاء الافہام: ص۴۶۵۔۴۸۲)

 هذا ما عندي والله اعلم بالصواب

فتاویٰ علمائے حدیث

جلد 2 کتاب الصلوۃ



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)