فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10994
(550) محسن نام رکھنے کے بارے میں حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 05 April 2014 02:31 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

: میرا نام محسن ہے اور وہ اللہ تعالی کے اسمائے حسنی میں سے ایک نام ہے ، جو شخص بھی مجھے جانتا اور بلاتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ یا محسن ، میں اس نام کن بدل بھی نہیں سکتا کیونکہ تمام سرکاری کاغذات میں نام لکھا ہوا ہے ، کیا یہ نام رکھنا حرام ہے یامکروہ ، اس کا گناہ نام رکھنے والے کو ہوگا یا مجھے ؟ راہنمائی فرمائیں ۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر سے نوازے ۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

محسن اللہ سبحانہ وتعالی کی صفات میں سے ہے اور مجھے یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعےالی کے اسماء میں بھی یہ نام آیا ہو ۔( شیخ عثیمین حفظہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ محسن اللہ تعالی کے اسماء میں سے ہے )۔ احسان اللہ تعالی کے فعل کی صفت ہے ، لہذا یہ نام رکھنا حرام نہیں جب کہ اس سے انسان کا مقصود صرف نام رکھنا ہی ہو ۔ صحابہ کرام ﷢ میں سے بعض کا نام حکیم تھا اور حکیم اللہ تعالی کے  اسماءمیں سے ہے، اس کے باوجود نبی ﷺ نے اس نام کو تبدیل نہیں فرمایا ، لہذا محض علم کے طور پر اس نام کے رکھنے میں کوئی حرج نہیں، لہذا آپ اس نام کو باقی رکھیں اس میں کوئی حرج نہیں ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص422

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)