فتاویٰ جات
فتویٰ نمبر : 10967
(523) ٹیلی وژن کا حکم
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 05 April 2014 11:43 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا کیمرہ سے تصویر  بنانا جائز ہے؟اور  کیا  ٹیلی وژن  کو دیکھنا خصوصاً خبروں وغیرہ کے  لیے جائز ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جاندار  چیزوں کی تصویر  جائز نہیں ہے خواہ وہ کیمرے سے بنائی جائے یا دیگر آلات سے اورنہ جاندار چیزوں کی تصویروں کو حاصل کرنا اور اپنے پاس رکھنا جائز ہے الا یہ کہ شناختی کارڈ یا پاسپورٹ وغیرہ کی کوئی ناگزیر  ضرورت ہو'تو اس  ضرورت کے لیے تصویر بنانا اور اسے اپنے پاس رکھنا جائز ہے۔جہاں تک ٹیلی وژن  کے بارے میں سوال ہے تو یہ ایک ایسا آلہ ہے کہ اس کے باوجود کے بارے میں کوئی حکم نہیں ہے۔حکم کا تعلق اس کے استعمال سے ہے اگر اسے حرام چیزوں کےلیے استعمال کیا جائے مثلاً فحش گانوں 'فتنہ  انگیز تصویروں 'کذاب وافتراء'الحاد 'حقائق کے مسخ کرنے اور  فتنوں  کے بھڑکانے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ حرام ہے اور اگر اسے خیر وبھلائی کے کاموں کیلیے استعمال کیا جائے مثلاً قرآن مجید کی تلاوت'حق کے اظہار'امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیلیے تو پھر  اس کا استعمال جائز ہے اور دونوں مقاصد کیلیے استعمال کیا جائے اور  دونوں مساوی ہوں یا اس میں شر کاپہلو غالب ہو تو پھر اس کا استعمال حرام ہوگا۔کمیٹی کی طرف سے تصویر اور ٹیلی وژن دیکھنے کے  بارے میں دو مفصل فتوے جاری ہوچکے ہیں'ہم ان میں سے ہر ایک کی فوٹو کاپی ارسال کررہے ہیں تاکہ آپ ان سے استفادہ  کرسکیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص395

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)