فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 10917
(470) طالبات کو مارنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 02 April 2014 04:52 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ادب سکھانے  یا علم  پڑھانے کے لیے  بوقت ضرورت  طالبات  کو مارنے  کے ابرے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معلم ومدرس  کو چاہیے کہ  کہ بچے  اور بچیاں خواہ  وہ چھوٹے  ہوں یا بڑے 'ان سے نرمی  اور شفقت  کا سلوک کرے  اوراگر کوئی جسمانی سزا دینے کی ضرورت  پیش آجائے  بشرطیکہ  وہ جسم پر اثر انداز  نہ ہو تو یہ جائز  ہے  کیونکہ بے وقوف  لوگوں کی یہ عادت  ہوتی ہے کہ  وہ  برا معاملہ کرتے اور  اساتذہ کرام کا احترام بجا نہیں لاتے 'لہذا کبھی  سختی اور شدت  اختیار  کرنے کی بھی  ضرورت  پیش آجاتی ہے ' جو نرمی  وشفقت  سے زیادہ مؤثر  ثابت ہوتی ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص357

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)