فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 10915
(468) محفلوں میں تالی بجانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 02 April 2014 04:48 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مجلسوں میں اور محفلوں میں مردوں کے لیے تالی بجانے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

محفلوں میں تالی بجانا اعمال  جاہلیت  میں سے ہے ۔اس کے بارے میں کم  سے کم یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ مکروہ ہے ورنہ دلیل  کے ظاہر سے تو یہ معلوم  ہوتا ہے کیونکہ مسلمان کو کفار کی  مشابہت  اختیار  کرنے سے منع  کیا گیا ہے اور کفار مکہ  کا ذکر  کرتے ہوئے  اللہ تعالیٰ  نے فرمایا ہے:

﴿وَما كانَ صَلاتُهُم عِندَ البَيتِ إِلّا مُكاءً وَتَصدِيَةً ۚ...﴿٣٥﴾... سورةالانفال

"اور  ان  لوگوں  کی نماز  خانہ کعبہ  کے پاس  سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے  سوا کچھ نہ تھی۔"

علماء فرماتے ہیں  کہ (مكاء) کے معنی  سیٹی بجانا اور (تصدية) کے معنی  تالی بجانا ہے ۔ مرد  مومن  کے لیے  سنت یہ ہے کہ  وہ جب  کوئی ناپسند یدہ  یا ناپسندیدہ  بات  دیکھے یا سنے  تو سبحان اللہ  یا اللہ اکبر  کہے  جیسا کہ نبی ﷺ سے مروی بہت  سی  احادیث سے ثابت ہے ۔ تالی بجانے کا حکم تو بطور  خاص  عورتوں  کے لیے ہے  اور وہ بھی  اس وقت  جب وہ مرد وں کے ساتھ  باجماعت  نماز ادا کررہی ہوں  اور امام  سے  نماز  میں کوئی  سہو ہوجائے  تو اسے متنبہ  کرنے کے لیے  و ہ تالی بجاسکتی  ہیں جیسا کہ  مرد ایسی صورت میں سبحان اللہ  کہہ کر امام کو متنبہ  کرتے ہیں جیسا کہ  صحیح سنت سے ثابت  ہے۔اس  تفصیل  سے معلوم  ہوا کہ  مردوں  کے تالی بجانے  میں  کافروں  اور عورتوں  کے  ساتھ مشابہت  ممنوع ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص356

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)