فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 10913
(466) یادگار کے لیے تصویریں
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 02 April 2014 04:45 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہم طالب علم ساتھیوں  یا اپنے دوستوں  کے ساتھ  جب کسی جگہ  سیروسیاحت  کے لیے جاتے  ہیں  تو محض یادگار  کے لیے تصویریں بھی بنالیتے ہیں۔ان تصویروں کے بارے میں کیا حکم ہے جو محض یادگار کے طور پر بنائی گئی  ہوں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ان تصویروں کے بارے میں بھی یہی حکم ہے  کہ اگر  یہ جاندار  چیزوں کی ہوں تو  یہ حرام ہیں کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے:

(ان اشد  الناس  عذاباً يوم القيامة المصورون )) (صحيح البخاري ‘اللباس  باب عذاب  المصورين يوم القيامة ‘ ح: ٥٩٥ وصحيح مسلم ‘اللباس والزينة ‘باب تحريم  تصوير  صورة الحيوان____ الخ‘  ح: ٢١-٩ والفظ له )

 روز قیامت سب سے زیادہ شدید عذاب  مصوروں کو ہوگا۔"

  نبی ﷺ نے مصوروں پر لعنت فرمائی ہے  اور اگر  تصویریں بے جان  چیزوں  مثلاً گاڑی 'ہوئی جہاز اور کھجور کے درخت وغیرہ کی ہوں  تو ان میں کوئی  حرج نہیں ہے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص355

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)