فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10911
(464) حوصلہ وافزائی کے لیے تالیاں بجانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 02 April 2014 04:42 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا یہ جائز ہے کہ  کوئی شخص اپنے  بچے کی دل جوئی  کے  لیے تالیاں بجائے یا کوئی  استاد  کلاس  میں طلبہ سے  کسی  طالب علم  کی حوصلہ افزائی  کے لیے تالیاں  بجوائے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تالی  نہیں بجانا  چاہیے ۔اس کے  لیے  جو کم  بات کہی جاسکتی ہے  وہ یہ کہ  تالی بجانا شدید مکروہ ہے  کیونکہ یہ عادات  جاہلیت میں سے ہے  اور پھر یہ تالی بجانا عورتوں  کے خصائص  میں سے ہے  کہ انہیں  حکم ہے کہ نماز میں  اگر امام سے کوئی سہو  ہوجائے اور وہ اسے مطلع  کرنا چاہیں  تو  وہ سبحان اللہ  کہنے  کی بجائے  تالی بجائیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص355

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)