فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 10901
(461) امتحان میں دھوکا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 March 2014 04:49 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

امتحانات میں دھوکا کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ میں بے بہت سے  طلبہ کو امتحانات میں دھوکہ کرتے ہوئے دیکھا تو  انہیں سمجھایا  لیکن انہوں نے  کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں  لہذا آپ رانمائی  فرمائیں 'اللہ تعالیٰ آپ کو  جزائے خیر سے نوازے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دھوکا حرام ہے خواہ امتحانات  میں ہو یا عبادات میں یا معاملات میں  کیونکہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے:

(من غشنا فليس منا) (صحيح مسلم  ّالايمان  ‘باب قول النبي صلي الله عليه وسلم  من غشنا فليس منا ‘ ح:١-١)’

 جو ہمیں دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔"

اس میں چونکہ دنیا وآخرت کے بہت سے نقصانات ہیں'اس لیے واجب ہے کہ  خود بھی  اس سے اجتناب کیا جائے  اور دوسروں  کو بھی اس کے ترک کرنے کی تلقین دی جائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص353

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)