فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 10898
(458) کیا میں سوالات کے جوابات دے سکتی ہوں؟
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 March 2014 04:44 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں اسلامیات کی ٹیچر ہوں ۔ میں نے  ڈگری کالج  سے اسلامیات  میں ڈگری  حاصل کی ہے  اور بہت سی  فقہی کتابوں  کجا بھی مطالعہ کیا ہے  لہذا  جب طالبات  مجھ سے کوئی سوال پوچھیں تو کیا میں اپنے علم کی حد تک  بطریق  قیاس واجتہاد  جواب دے سکتی ہوں 'جب کہ حرام وحلال کے احکام ومسائل میں مداخلت نہ کروں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کتابوں اک مطالعہ کیجئے  اور خوب محنت  کیجیے اور پھ اپنے ظن  غالب  کے مطابق  طالبات کے سوالات  کے جواب دے دیجئے اس میں کوئی حرج نہیں ۔اگر  آپ کو کسی  جواب کے بارے میں  شک ہو  اور صحیح بات واضح نہ ہو تو کہہ دیں  کہ مجھے  اس کا جواب معلوم نہیں  اور وعدہ  کرلیں کہ میں تحقیق  کے بعد اس سوال کا جواب  دوں گی ا ور پھر  کتب کے مطالعہ کے بعد  یا اہل علم سے پوچھ کر  جواب دے دیں تاکہ صحیح جواب  دیا جاسکے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص351

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)