فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 10897
(457) طالبات اور معلمات کی غیبت
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 March 2014 04:41 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے ساتھ جو خواتین کام کرتی ہیں 'ان کی اکثر وبیشتر گفتگو  طالبات اور معلمات کے بارے میں ہوتی ہے ۔میں نے انہیں کئی دفعہ  مثبت نداز   میں سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن  وہ پھر  اسی موضوع  پر گفتگو  شروع کردیتی ہیں۔میں کیا  کروں' کیا اس صورت حا ل  میں ان کے ساتھ  کام کرنے کی وجہ سے گناہ  گارہوں گی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب آپ انہیں یہ نصیحت  کرتی  رہیں گی  کہ وہ طالبات ومعلمات کے بارے میں ایسی گفتگو نہ کریں'جو جائز  اور حلال نہ ہو اور  وہ آپ  کو سمجھانے  کی وجہ  سے نیکی  ملے گی اورانہیں بھی خیر وبھلائی  حاصل  ہوگی  اور اگر  وہ آپ  کی بات  نہ مانیں تو آپ  کو سمجھانے کی وجہ سے نیکی  ملے  گی  اور انہیں آپ کی بات قبول  نہ کرنے  کی وجہ  گناہ گار  ہوگا' مگر آپ  انہیں مسلسل  سمجھاتی رہیں  خواہ  وہ اس سے باز نہ بھی آئیں کیونکہ بسا اوقات  مسلسل  وعظ  ونصیحت  کرنے اور کثرت  سے دعوت   الی اللہ  دینے سے  انسان  اپنے برے کام سے مکمل طور پر اجتناب کرنے لگ جاتا ہے ۔ان خواتین  کے لیے اور دیگر سب لوگوں کے لیے  بھی یہ واجب ہے کہ  وہ خرام گفتگو  سے اپنی زبانوں  کو بچائیں اور یاد رکھیں کہ وہ جب  کسی کے بارے میں ایسی گفتگو  کریں' جو اسے  ناپسند  ہو تو  یہ غیبت ہے اور جس  کی غیبت کی جائے وہ روز  قیامت  اس کی نیکیوں  کو لے لے گا اور اس کی برائیاں غیبت کرنے والے  کے سر پر ڈال دی جائیں گی

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص351

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)