فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10892
(452) سکاؤٹ کا عہد
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 March 2014 04:25 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

محکمہ ڈاک ریاض  کے ہائی سکول  نے درج ذیل  عبارت کو ملاحظہ کیا ہے: "سکاؤٹ کا عہدـــ میں اپنی عزت  وناموس  کی قسم کے ساتھ  یہ عہد کرتا ہوں کہ اپنے  وطن اور ملک کی خاطر  اپنے فرائض سرانجام  دینے کے لیے میں پوری  پوری کوشش کروں گا'ہر وقت  لوگوں کی مدد کروں گا اور سکاؤنٹ کے قانون کے مطابق  عمل کروں گا۔"

یہ عبارت سکاؤٹنگ  سے متعلق  اس کتابچے  کر ٹائیٹل 'مقدمہ  اورا س کے صفحہ 23 جس میں مذکور ہ بالا عبارت درج ہے 'کی فوٹو کاپی  ارسال  خدمت ہے 'امید ہے  موصول  ہونے پر  مطلع  فرمائیں گے  اور فتویٰ سے بھی نوازیں گے کہ سکاؤنٹ کے اس حلف  کے بارے میں کیا حکم ہے  تاکہ ہماسے برقرار رکھیں یا شرعی  فتویٰ کے مطابق  اس کی اصلاح کردیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

: پہلی بات تو یہ ہے کہ  غیر اللہ  کی قسم  کھانا حرام  ہے 'خواہ وہ باپ  ہو یا کوئی لیڈر  یا شرف یا عزت  وجاہ وغیرہ  کیونکہ صحیح حدیث  سے ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :

(من كان حالفاً فليحلف بالله  او ليصمت) (صحيح البخاري‘الشهادات ‘باب كيف  يستحلف ؟ ح: ٢٦٧٩ وصحيح مسلم ‘الايامن  ‘باب النهي عن الحلف  بغير الله تعاليٰ ‘ ح: ١٦٤٢)

" جو شخص قسم کھانا چاہے تو وہ اللہ  کی قسم  کھائے  یا خاموش  رہے۔" اور فرمایا :

"(( من حلف  بغير الله  فقد  اشرك ) (مسند احمد  :٢/٨٧)

"جس نے  غیر اللہ کی قسم  کھائی 'اس نے شرک کیا ۔"
دوسری بات یہ ہے کہ کسی مسلمان کو یہ بات زیب  نہیں  دیتی  کہ وہ یہ عہد  کرے  کہ وہ اللہ کے لیے  اور غیر اللہ مثلاً وطن  یا بادشاہ  یا لیڈر  کے لیے  یکساں  طور پر  کام کرے گا بلکہ  اسے یوں  کہنا چاہیے کہ  میں اللہ تعالیٰ وحدہ  کے لیے اپنے فرض  کو ادا کرنے میں پوری پوری  کوشش کروں گا اور پھر اپنے  وطن  کی خدمت  اور مسلمانوں کی مدد بھی کروں گا اور سکاؤٹنگ  کے نظام  کے مطابق  اس  حد  تک عمل کروں گا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت  کے مخالف  نہیں ہوگا۔

تیسری بات  یہ کہ یہ واجب ہے کہ انسان کا عمل  اللہ تعالیٰ کی شریعت  کے مطابق  ہو،لہذا اس کے لیے یہ جائز  نہیں کہ وہ حکومت  یا جماعت  یا کسی  انسانی گرو ہ  کے قانون  کے مطابق  عمل  کرنے  کا مطلقاً عہد کرے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص345

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)