فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10888
(448) اضافی مال کو قبول نہ کرو
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 March 2014 04:14 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک کمپنی میں ماہانہ  مقررہ  تنخواہ  پر کام کرتا ہوں  اور مجھے  لوگوں کے بعض  آلات درست کرنے کے لیے لوگوں کے گھر وں میں بھی جانا پڑتا ہے اور بعض لوگ مجھے اضافی رقم  دینے پر بھی اصرار کرتے ہیں 'میں اس رقم  کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہوں لیکن وہ مجھے دینے پر اصرار کرتے ہیں' تو میں  کیا کروں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تقوٰی کا تقاضہ یہ ہے کہ آپ اسے قبول نہ کریں اور اسے ترک  کردیں کیونکہ نبی ﷺ نے  صدقہ   کی وصولی  کے لیے اپنے  ایک کارکن کو بھیجا  تاھ' جن کا نام عبداللہ  سبن لتیبہ تھا ' جب وہ صدقہ  وصول  کرکے واپس آیا تو اس نے کہا کہ یہ  مال تمہارے لیے ہے اور  یہ مجھے بطور تحفہ  ہدیہ دیاگیا ہے ۔تو نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

(فهلا جلس  في بيت  ابيه او بيت  امة فينظر ايهديٰ له ام لا؟ (صحيح البخاري ‘الهبة ‘باب من لم يقبل  الهدية لعله ‘ ح:٢٥٩٨ وصحيح  مسلم الامارة ‘باب تحريم  هدايا العمال ‘ ح:١٨٣٢)

"یہ شخص اپنے باپ اور ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھ رہا  پھر دیکھتا ہے کہ  اسے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں ؟"

اس تعبیر سے  کہ "یہ شخص اپنے باپ  اور ماں کے گھر میں کیوں  نہ بیٹھ رہا " وہ سب معلوم  ہوا کہ جس کی وجہ سے  آپ  نے اعمال عامہ سرانجام دینے والوں کو ہدیہ  قبول کرنے  سے منع فرمایا  کہ اگر  یہ شخص اپنے گھر  میں ہوتا تو اسے قطعاً یہ ہدیہ نہ دیاجاتا لہذا ورع وتقویٰ کا تقاضہ یہ ہے کہ  آپ اپنی تنخواہ کے علاوہ  کچھ اور قبول نہ کریں۔واللہ اعلم

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص341

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)