فتاویٰ جات: علاج ومعالجہ
فتویٰ نمبر : 10880
(440) علاج کے اخراجات کی تنخواہ سے کٹوتی ہونی چاہیے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 March 2014 01:42 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مجھے اپنے کام  کی جگہ سے باہر حادثہ پیش آیا اور جب  میں اپنے علاج کے اخراجات برداشت نہ کرسکا تو میں نے  اسے کام  کے دوران میں حادثہ قرار دے دیا اور اس طرح جس کمپنی میں میں کام کرتا تھا اس نے علاج کے اخراجات  ادا کردیے  لیکن اب میں اس پرنادم ہوں 'سوال یہ ہے کہ کیا میں نے یہ حرام کام کیا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کے لیے لازم  ہے کہ کمپنی  والوں کو حقیقت  حال  کے بارے میں بتائیں اور انہیں پیش کیش  کریں کہ انہوں نے جو اخراجات کیے ہیں'وہ آپ سے واپس  لے لیں یا آپ  کی تنخواہ  میں سے کٹوتی  کرلیں۔اگر وہ  آپ کو معاف  کردیں اوراس  کا انہیں اختیار   بھی ہو تو آپ  سے تاوان  ساقط  ہوجائے گا ورنہ  جب  تک آپ  ان سے  معاف  نہ کروائیں یا اخراجات  واپس  نہ کریں آپ بری الذمہ  نہیں ہوں گے ۔آپ نے جھوٹ اور ظلم سے جو کام  لیا ہے  اس کی وجہ سے اللہ  تعالیٰ سے معافی بھی طلب  کریں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص338

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)