فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10879
(439) اعزازیہ کے لیےشرعی شرائط
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 March 2014 01:41 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی ادارے کا سربراہ کسی کارکن کو اس کی مخلصانہ جدوجہد  کی وجہ سے اس کی اصلی تنخواہ کےعلاوہ جو اعزازیہ  دیتا ہے کیا یہ رشوت ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

: نہیں یہ رشوت نہیں ہے جب کہ مقصود کام کی ترغیب  دینا ہو الا یہ کہ یہ کار کن اس اعزازیہ کے بغیر اپنے  فرائض  کو ادا ہی نہ کرتا ہو  تو اس حال میں یہ رشوت اور حرام ہوگا۔ کیونکہ  اس صورت  میں یہ اس کے فرض وواجب  کام کے بلمقابل  ہوگا اور فرض وواجب ادا کرنے  پر اعزازیہ لینا جائز نہیں ہے کیونکہ اس بات میں فرق ہے کہ اپنے  فرض کو ادا کرنے پر حوصلہ افزائی  کے لیے اعزازیہ دیا جائے یا اعزازیہ دیا ہی اس لیے جائے  کہ وہ اپنے فرض کو ادا کرے کیونکہ فرض کو ادا کرنا تو واجب ہےخواہ اعزازیہ ملے یا نہ ملے لیکن  فرض  کو ادا کرنے پر حوصلہ افزائی کےلیے اعزازیہ دیان  رشوت نہیں بلکہ یہ جائز ہے الایہ کہ  مستقبل میں اس کا کوئی منفی  نتیجہ نکلتا ہو کہ کارکن کو اس کا لالچ ہو اور اگر اسے اعزازیہ نہ دیا جائے تو  وہ کام میں کوتاہی کرے تو اس صؤرت حال  میں اسے کوئی اعزازیہ نہ دیا جائے کیونکہ وسائل کے احکام ہوتے ہیں جو مقاصد کے ہوتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص337

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)