فتاویٰ جات: تعلیم وتعلم
فتویٰ نمبر : 10857
(417) دھوکے سے ڈگری حاصل کرنے والے کام
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 31 March 2014 12:50 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک طالب علم نے یونیورسٹی  سے ڈگری تو حاصل کرلی ؛جب کہ تعلیمی  مراحل پاس  کر نے کے دوران  میں کبھی  وہ نقل  سے کام لیتا تھا یا کبھی اپنے ساتھیوں سے مدد لے لیتا تھا اوراس طرح ناجائز  طریقے اختیار  کرکے  بالآخر یو نیورسٹی  کی ڈگری  حاصل  کرنے  میں کامیاب ہوگیا اور پھر  اپنی اس ڈگری  کے مطابق وہ ملازمت حاصل کرنے  میں بھی کامیاب ہوگیا اور اب  اسے ملازمت  کی ماہوار تنخواہ  بھی ملنے لگی  ہے' تو سوال یہ ہے کہ  کای اس کی تنخواہ حلال ہے یا حرام لیکن یاد رہے کہ اس کی ملازمت کی وجہ سے  اس کے سپرد جو کام ہے اسے وہ اچھے طریقے سے  سرانجام دے رہاہے 'بلکہ وہ مقرر وقت سے بھی  زیادہ وقت دے دیتا ہے 'اگر اس کی یہ تنخواہ حرام  ہے تو اس مشکل کا حل کیا ہے' فتویٰ عطا فرمائیں ۔اللہ تعالیٰ آپ کو اجر وثواب سے نوازے گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس شخص نے جو کچھ کیا اس پر اس کو اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کرنی چاہیے اور اپنے فعل پر نادم  ہونا چاہیے ۔اس کی ملازمت  صحیح ہے اور  تنخواہ  لینا بھی درست ہے بشرطیکہ اس کام کو  صحیح طریقے سے  سر انجام  دے'جو اس کے سپرد کیا گیاہے لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے' اسے اپنے اس غلط اور برے کام سے توبہ کرنی چاہیے 'توبہ  سے سابقہ  گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص325

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)