فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10811
(360) مرحوم اور شہید
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 30 March 2014 12:01 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مجھے معلوم ہوا ہےکہ میت  کے لیے مرحوم اور شہید  کے الفاظ استعمال کرنا جائز نہیں ہے، تو سوال یہ ہے کہ صحافی، ذرائع ابلاغ  کے نمائندے  اور عام لوگ ان کی بجائے کون سے الفاظ استعمال کریں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ان میں سے  پہلے لفظ یعنی  مرحوم کے استعمال سے مقصود اگر خبر  ہو تو یہ جائز  نہیں 'کیونکہ  کوئی نہیں جانتا کہ اس پر رحم کیا گیا ہے یا نہیں اور اگر اس لفظ کے استعمال  سے مقصود دعا ہوتو اس میں  کوئی  حرج نہیں ۔یہ ایسے  ہی ہے جیسے آپ  کسی کے لیے  یہ کہیں کہ  رحمه الله (اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے) یا یہ کہیں کہ غفرالله  له( اللہ تعالیٰ اسے معاف  فرمادے ) تو اس میں کوئی حرج نہیں ۔

جہاں تک دوسرے لفظ"شہید" کے استعمال کا مسئلہ ہے'تو کسی کو شہید کہنے کے معنی  یہ ہیں کہ آپ اس  کے لیے شہادت کےحکم کا اثبات کررہے ہیں اور یہ جائز  نہیں ہے کیونکہ  کسی شخص کے لیے یہ شہادت دینا کہ وہ شہید ہے' اس کے معنی یہ ہیں کہ  آپ اس  کے لیے حکم  شہادت ثابت کررہے ہیں اور حکم شہادت یہ ہے کہ وہ جنتی ہے'جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿وَالشُّهَداءُ عِندَ رَ‌بِّهِم لَهُم أَجرُ‌هُم وَنورُ‌هُم ۖ...﴿١٩﴾... سورة الحديد

"اور جواپنے  پروردگار کے نزدیک شہید ہیں'ان کے لیے ان (کے اعمال ) کا صلہ ہوگا اور ان (کے ایمان ) کی روشنی ۔"

اور فرمایا :

﴿وَلا تَحسَبَنَّ الَّذينَ قُتِلوا فى سَبيلِ اللَّهِ أَمو‌ٰتًا ۚ بَل أَحياءٌ عِندَ رَ‌بِّهِم يُر‌زَقونَ ﴿١٦٩﴾... سورة آل عمران

" جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے'ان کو  مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ اللہ کے نزدیک  زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے۔"

لہذا کسی شخص  کے بارے میں نص یا مسلمانوں  کے اجماع کے بغیر پورے وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ شہید ہے'اسی لیے  امام بخاری  ؒ نے ایک باب کا عنوان اس طرح قائم فرمایا ہے کہ(باب لايقال فلان شهيد) "یہ  نہ کہاجائے کہ فلاں شخص شہید  ہے 'البتہ  اگر کوئی شخص ایسی موت مرا جس کے بارے میں شارع نے حکم  یہ بیان فرمایا ہو کہ جو شخص اس طرح  کی موت مرے گا وہ شہید ہے' تو اس صورت میں بطور عموم  یہ کہا جائے گا کہ جو شخص اس سبب سے مرے  وہ  شہید ہے  لہذا  امید ہے کہ یہ شخص بھی شہید ہوگا۔

اخبارات ورسائل  میں اس طرح کے القاب ان لوگوں کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں'جن کے بارے میں وثوق سے یہ بھی  نہیں کہا جاسکتا کہ وہ مومن  ہیں ' شہید ہونا تو بہت  دور کی بات  ہے۔ہرانسان کو چاہیے خواہ وہ صحافی ہو یا غیر صحافی  کہ وہ جو بات بھی کرے احتیاط  سے کرے'کیونکہ اس نے جو کچھ بھی کہا ہوگا'اس کے بارے میں  سوال ہوگا جیساکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ما يَلفِظُ مِن قَولٍ إِلّا لَدَيهِ رَ‌قيبٌ عَتيدٌ ﴿١٨﴾... سورة ق

کوئی بات  اس کی زبان  پر نہیں آتی  مگر ایک  نگہبان (اس کو محفوظ کرنے کے لیے) اس  کے پاس تیار رہتا ہے"

اگر کوئی کسی ایسے شخص کے بارے میں گفتگو کرے' جو  کسی ایسے سبب سے فوت ہوا ہو ' جس کے بارے میں گمان یہ ہوتا ہے کہ جو اس  طرح فوت ہوتو وہ شہید ہے' تو اس طرح کہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ جو اس سبب  سے فوت ہوگا تو وہ شہید  شمار ہوگا لیکن  اس طرح  کے کسی  معین  شخص کے بارے میں یہ نہ کہے کہ وہ شہید ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج4ص284

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)