فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10757
لفظ عمرو عیار کا استعمال
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 25 March 2014 10:27 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

شیعہ کی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تبرا اور گستاخیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، ان ہی گستاخیوں کا تسلسل عمرو عیار(نعوذ باللہ) نامی کہانیاں بھی ہیں ، اگرکوئی شخص جانتے بوجھتے ہوئےلفظ عمرو عیار کا استعمال کرتا ہے ، تو اس کا کیا حکم ہے ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی بھی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ان الفاظ کے پیچھے چھپی سازشوں کا علم ہو جانے کے بعد ان الفاظ کو استعمال کرے۔اگر کوئی شخص جانتے بوجھتے ہوئے ایسا کرتا ہے تو وہ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کی سزا وہی ہے جو گستاخ صحابہ کی ہے۔

امام ابن تیمیہ نے صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی ہے۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر اس کی گستاخی تکذیب قرآن ،اور تردید سنت نبوی تک لے جائے مثلا وہ صحابہ کی عدالت وثقاہت میں گستاخی کرے تووہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔اور اس کی گستاخی اس سے کم درجے کی ہے تو اسے مناسب تعزیر اور سزا دی جاےجائے گی۔( الصارم المسلول: 581 - 591، ط المكتب الإسلامي.)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتوی کمیٹی

محدث فتوی



تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)