فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10224
شیطان کی پھونک
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 February 2014 12:13 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نماز شروع کرنے اور ایک یا دو رکعت پڑھنے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ ہوا خارج ہورہی ہے تو کیا اس سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں ؟اور جب یہ صورت حال ہمیشہ جاری رہے تومجھے کیاکرنا ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بظاہر یوں معلوم ہوتا ہےکہ یہ شیطانی وسوسے ہیں۔ تاکہ شیطان نمازی کی نماز کو خراب کردے۔ یا اس کے ادا کرنے کو اس کے لئے مشکل بنادے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ياتي احدكم الشيطان في صلاته فيفخ في مقعد ته فيخيل اليه انه احدث ولم يحدث فاذا وجد ذلك فلا ينصرف حتي يسمع صوتا او يجد ريحا (رواه البيزار انظر كشف الاسناد ١٢٨/١)

''شیطان تم میں سے ایک کے پاس اس کی نماز میں آتا اور اس کی مقعد میں پھونک مارتا ہے۔تو نمازی کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ بے وضو ہوگیا ہے حالانکہ وہ بے وضو نہیں ہوا ہوتا جب کوئی اس طرح کی صورت حال پائے تو وہ نماز کو نہ توڑے حتیٰ کہ آواز سن لے یا بدبو محسوس کرے''

اورحضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی مرفوع حدیث میں ہے کہ:

اذا جاء احدكم الشيطان فقال انك احدثت فليقل كذبت (مسند احمد)

''جب تم میں سے کسی کے پاس شیطان آکر یہ کہے کہ تو بے وضوء ہوگیا تو اسے چاہیے کہ وہ یہ کہے کہ تو جھوٹ کہتا ہے۔''

یعنی اپنے جی میں اسے یہ کہے لہذا سائل کو ہم نصیحت کرتے ہیں۔ کہ وہ ان شیطانی اوہام وتخیلات کی طرف توجہ نہ کرے اس سے یہ جلد ختم ہوجایئں گے اور اگر یہ حقیقی ویقینی صورت حال ہے۔اوردائمی ہے جیسا کہ اس نے زکر کیا ہے۔تو اس کا حکم دائمی حدث میں مبتلا مریض کا ہوگا۔لہذا نماز کے وقت میں خروج ہوا سے اس کا وضوء نہیں ٹوٹے گا۔اس کی مثال سلسل البول کے مریض کی سی ہوگی اور اس کے لئے بار بار چونکہ وضوء کرنا مشقت ہے۔ لہذا یہ ہر فرض نماز کے وقت میں وضو کرلے اور پھر نماز پڑھتا رہے۔(خواہ نماز میں ہوا خارج ہوتی رہے بیماری کی وجہ سے یہ شخص معذور تصور ہوگا

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص302

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)