فتاویٰ جات: عقیدہ و منہج
فتویٰ نمبر : 10217
یقین پر بنیاد دین کا ایک بہت بڑا اصول ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 19 February 2014 11:44 AM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

امید ہے آپ اس حد یث کی شرح فر ما دیں گے جس میں یہ الفاظ ہیں کہ :

(لا ينتفل اولا ينصرف حتي يسمع صوتا او يجد ريحا)(صحیح مسلم )

"جب تک آواز نہ سنے یا بد بو محسو س نہ کر ے نماز سے نہ پھر ے ۔"


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ حدیث صحیح ہے اور شر یعت کے قوا عد میں سے ایک قا عدہ ہے اور وہ یہ کہ یقین پر بنیا د رکھی جا ئے شکوک و اوہا م کی طرف التفات نہ کیا جا ئے انسا ن  جب یقین کے سا تھ طہارت حا صل کر ے تو وہ اس وقت تک طا ہر رہتا ہے جب تک اسے حدث کا یقین نہ ہو جا ئے لہذا ان اوہا م و شکو ک کی طرف التفا ت نہ کیا جا ئے گا ۔جنہیں شیطا ن انسا ن کے دل میں ڈالتا ہے تا کہ انسا ن تشویش میں مبتلا ہو کر عبا د ت سے اکتا جا ئے اور اسے  بہت  گرا ں محسوس کر نے لگے اس لیے جب وہ دورا ن نماز  پیٹ میں کو ئی گرا نی یا حرکت وغیرہ محسوس کر ے تو اس وقت تک نماز کو نہ تو ڑ ے جب تک اسے آوا ز سننے یا ہو ا کے خا رج ہو نے سے طہا رت کے ختم ہو جا نے کا یقین نہ ہو جا ئے ۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج1ص298

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)