فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10161
(702) گواہی اپنے علم کے مطابق دینی چاہیے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 February 2014 05:11 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

لوگوں کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے اس قسم کی گواہی کی ضرورت ہوتی ہے کہ مثلاً فلاں شخص واقعی بحرین میں پیدا ہوا ہے تو لوگ یہ گواہی دے دیتے ہیں خواہ انہیں اس بات کا یقین ہو یا نہ ہو، تو کیا یہ بھی جھوٹی گواہی شمار ہو گی؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان کے لئے صرف اسی چیز کے بارے میں گواہی دینا جائز ہے، جسے وہ دیکھنے یا سننے کی وجہ سے جانتا ہو کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿إِلّا مَن شَهِدَ بِالحَقِّ وَهُم يَعلَمونَ ﴿٨٦﴾... سورة الزخرف

’’ہاں جو علم و یقین کے ساتھ حق کی گواہی دیں۔‘‘

نیز ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَلا تَقفُ ما لَيسَ لَكَ بِهِ عِلمٌ...﴿٣٦﴾... سورة لاسراء

’’اور جس چیز کا تجھے علم نہیں، اس کے پیچھے نہ پڑ۔‘‘

اور حضرت ابن عباسؓ سے روایت کی گئی ہے۔

«أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الشَّهَادَةِ، فَقَالَ: «هَلْ تَرَى الشَّمْسَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَعَلَى مِثْلِهَا فَاشْهَدْ، أَوْ دَعْ»(حلية الاولياء)

’’ایک شخص نے رسول اللہﷺ سے شہادت(گواہی) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: کیا تم سورج کو دیکھتے ہو؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں ! تو آپﷺ نے فرمایا کہ اس طرح کی بات کے بارے میں گواہی دو یا اسے چھوڑ دو۔‘‘

اس سے معلوم ہوا کہ کسی بھی شخص کے لئے اس وقت تک یہ گواہی دینا جائز نہیں ہے کہ فلاں شخص بحرین میں پیدا ہوا ہے، جب تک کہ اسے اس کا علم نہ ہو۔ اور جو شخص یہ گواہی دے کہ فلاں شخص بحرین میں پیدا ہوا ہے اور وہ جھوٹا ہو تو اس کی یہ گواہی جھوٹی ہو گی اور وہ اس وعید کا مستحق ہو گا جو جھوٹی گواہی کے بارے میں قرآن کریم اور سنت میں وارد ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص559

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)