فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10160
(701) شہادت حق کو چھپانا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 February 2014 05:08 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک آدمی ایک شخص کے پاس کام کرتا تھا لیکن اس نے اسے جرت سے محروم کرنے کے لئے اس کے کام کا انکار کردیا۔ کارکن انتظامیہ کے پاس شکایت لے کر گیا تو انتظامیہ نے اس سے گواہوں کا مطالبہ کیا، جو لوگ یہ جانتے ہیں کہ یہ واقعی کام کرتا ہے، وہ اس شخص کے پڑوسی یا کارکن ہیں، لہٰذا انہوں نے گواہی دینے سے انکار کردیا تو شہادت حق چھپانے والے ان لوگوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو لوگ شہادت حق کو چھپائیں خواہ ان کا تعلق اس سوال سے ہو یا کسی بھی دوسرے معاملے سے ، ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے بارے میں اللہ فرماتا ہے:

﴿وَلا تَكتُمُوا الشَّهـٰدَةَ ۚ وَمَن يَكتُمها فَإِنَّهُ ءاثِمٌ قَلبُهُ ۗ... ﴿٢٨٣﴾... سورة البقرة

’’اور شہادت کو مت چھپانا جو اس کو چھپائے گا، وہ دل کا گناہ گار ہو گا۔‘‘

اور دل کا گناہ انسان کو انحراف بدن کی طرف لے جاتا ہے جس طرح کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے۔

«أَلاَ وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً: إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلاَ وَهِيَ القَلْبُ۔ ( صحیح البخاری)

’’جسم میں گوشت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ اگر وہ درست ہو تو سارا جسم درست اور اگر وہ خراب ہو تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے۔ سن لو وہ ٹکڑا دل ہے۔‘‘

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص559

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)