فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10155
(696) دوسرے کے مال سے نذر پوری کرنا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 February 2014 04:56 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹا دیا تو میں تین بکریاں ذبح کروں گا۔ ایک مخیر شخص نے مدد کیلئے مجھے ایک ہزار ریال دیے ہیں تو کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں ان میں سے بکریاں خرید کر اپنی نذر کو پورا کر دوں جبکہ یہ میرا خالص مال نہیں ہے بلکہ یہ تو مذکورہ شخص کی طرف سے مدد ہے؟ جزاکم اللہ خیرا


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس مال سے نذر پورا کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ جب اس نے یہ مال آپ کو دے دیا اور آپ نے اسے قبول کر لیا تو اب یہ مال آپ کا ہو گیا اور اس سے اگر آپ بکریاں خرید کر اللہ تعالیٰ کیلئے ذبح کر دیں تو انشاء اللہ یہ نذر پوری ہو جائیگی لیکن آپ کو ہم یہ نصیحت کرتے ہیں کہ آئندہ نذر نہ مانیں کیونکہ نذر ماننی مناسب نہیں ہے اس لیے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے:

«" لَا تَنْذِرُوا، فَإِنَّ النَّذْرَ لَا يُغْنِي مِنَ الْقَدَرِ شَيْئًا، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ"( صحيح مسلم)

’’نذر نہ مانو کیونکہ نذر اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے کچھ بھی نہیں ٹال سکتی ہاں البتہ اس کے ساتھ بخیل سے کچھ مال ضرور نکلوا لیا جاتا ہے‘‘۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص554

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)