فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10154
(695) یہ نذر نہیں ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 February 2014 04:54 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت نے ایک بچے کو ریڈیو پر بہت خوبصور تآواز کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے سنا جو اس کو بہت اچھی لگی۔ اس وقت وہ عورت حاملہ تھی۔ اس نے کہا کہ اگر میرے ہاں بچہ پیدا ہوا تو میں بھی اسے تعلیم دلوائوں گی تاکہ وہ اس بچے کی طرح پڑھے۔ اس کے ہاں واقعی بچہ پیدا ہوا والحمدللہ! تو کیا اس کی اس خواہش کو نذر قرار دیا جائے گا یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیرا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ نذر نہیں ہے اور نہ اس کیلئے یہ لازم ہے کہ وہ بچے کو اس طرح کی تعلیم دلائے کہ وہ اسی بچے کی طرح پڑھے بلکہ اس کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے بچے کو قرآن مجید‘ شرعی علوم اور دیگر مفید علوم کی اسی طرح تعلیم دلوائے  جس طرح اس ملک میں دوسرے مسلمان حاصل کرتے اور اپنے بچوں کو تعلیم دلاتے ہیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص554

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)