فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10153
(694) نذر امتناعی‘ قسم کے حکم میں ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 February 2014 04:53 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں ایک گناہگار نوجوان تھا‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت عطا فرما دی لیکن ایک گناہ کا میں پھر بھی ارتکاب کرتا رہا۔ میں نے کئی بار توبہ کی کوشش کی لیکن اس سے باز نہ رہ سکا لہٰذا میں نے ایک بار اپنے دل میں یہ کہہ دیا کہ اگر اب میں نے اس گناہ کا ارتکاب کیا تو میں متواتر دو ماہ روزے رکھوں گا لیکن شیطان نے مجھے پھر بہکا دیا اور میں نے سوچا کہ اس صورت میں یہ نذر قسم کی طرح ہے اور اس قسم کا کفارہ ادا کروں گا‘ لہٰذا میں نے اس گناہ کا ارتکاب کر لیا۔ میری رہنمائی فرمائیں اب میں کیا کروں؟ جزا کم اللہ خیرا۔ کیا میرے لیے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا جائز ہے کیونکہ دو ماہ کے روزوں کی نسبت یہ میرے لیے آسان ہے؟یاد رہے اللہ تعالیٰ نے مجھ پر احسان فرمایا ہے کہ میں نے اب اس گناہ سے سچی توبہ کر لی ہے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پہلی بات تو یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ سچے پکے عزم کا ثبوت دے اور قسم یا نذر کے بغیر حرام کو ترک کر دے اور فرض و واجب کو ادا کرے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿وَأَقسَموا بِاللَّهِ جَهدَ أَيمـٰنِهِم لَئِن أَمَر‌تَهُم لَيَخرُ‌جُنَّ ۖ قُل لا تُقسِموا ۖ طاعَةٌ مَعر‌وفَةٌ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبيرٌ‌ بِما تَعمَلونَ ﴿٥٣﴾... سورة النور

’’اوریہ اللہ کی سخت سخت (انتہائی پختہ) قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دوں تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں کہہ دو کہ قسمیں مت کھائو پسندیدہ فرماں برداری درکار ہے۔ بے شک اللہ تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے‘‘۔

لیکن کچھ لوگ اپنے نفس کو قابو کرنے سے عاجز و قاصر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ فرض ادا کرنے یا حرام کیلئے نذر یا قسم کا سہارا لیتے ہیں تو علماء نے ذکر فرمایا ہے کہ جس نذر سے مقصود امتناع( کسی کام سے رکنا) یا اقدام (کوئی کام کرنا) ہو تو اس کا حکم قسم کا سا ہے لہٰذا اس سوال کرنے والے بھائی پر یہ واجب ہے کہ اپنی اس نذر کی بجائے قسم کا کفارہ ادا کر دے اور وہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو ایک مد چاول یا گندم فی مسکین کے حساب سے دے دے۔ ہمارے عرف میں جو صاع موجود ہے یہ پانچ مد نبوی کے برابر ہے یا دس مسکینوں کو کپڑے دے دے یا ایک غلام آزاد کرے۔ اسے اختیار ہے کہ ان تین صورتوں میں سے جس کو چاہے اختیار کرنے اور اگر اسے استطاعت نہ ہو تو پھر متواتر تین روزے رکھ لے کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغوِ فى أَيمـٰنِكُم وَلـٰكِن يُؤاخِذُكُم بِما عَقَّدتُمُ الأَيمـٰنَ ۖ فَكَفّـٰرَ‌تُهُ إِطعامُ عَشَرَ‌ةِ مَسـٰكينَ مِن أَوسَطِ ما تُطعِمونَ أَهليكُم أَو كِسوَتُهُم أَو تَحر‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ ۖ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ ثَلـٰثَةِ أَيّامٍ...﴿٨٩﴾... سورة المائدة

’’اللہ تعالیٰ تمہاری بے ارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے اورجس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین روزے رکھے‘‘۔

کھانے کے سلسلہ میں یہ بھی جائز ہے کہ دوپہر شام کے کھانے پر دس مسکینوں کو دعوت دے دی جائے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص553

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)