فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10149
(689) اونٹنی ذبح کرنے کی نذر مانی تھی
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 February 2014 04:41 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت اور اس کے بچوں کو ایک بیماری لاحق ہوئی جس کی وجہ سے ایک بچہ فوت بھی ہو گیا۔ یہ عورت ہسپتال میں داخل اور بیماری و غم میں مبتلا تھی کیونکہ اسے گھر میں موجود بچوں کے بارے میں معلوم نہ تھا کہ وہ زندہ ہیں یا فوت ہو گئے ہیں۔ اس حالت میں اس نے یہ نذر مانی کہ’’اے اللہ! اگر گھر میں موجود بچوں سے زندہ سلامت میری ملاقات ہو گئی تو میں تیرے لئے ایک اونٹنی ذبح کروں گی اور اس کے گوشت میں سے خود کچھ بھی نہیں کھائوں گی نیز تیری رضا کے لئے ایک ماہ کے روزے بھی رکھوں گی چنانچہ اس نے ایک ماہ کے روزے رکھ لیے اور اونٹنی بھی ذبح کر دی لیکن اس کا کچھ گوشت بھی کھا لیا تو اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ اونٹنی کافی ہوگی جس کے گوشت میں سے اس نے کھا لیا ہے یا اس کیلئے ایک دوسری اونٹنی ذبح کرنا لازم ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر سے نوازے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس عورت نے اونٹنی کو چونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے بطور صدقہ ذبح کرنے کی نذر مانی تھی اور یہ نذر اطاعت ہے اور نذر اطاعت کو پورا کرنا لازم ہے لہٰذا اسے اس اونٹنی کا سارا گوشت صدقہ کر دینا چاہئی تھا لیکن اس نے اس کا جو گوشت کھا لیا ہے تو اس کی وجہ سے اس کے لیے ایک اور اونٹنی کوذبح کرنالازم نہیں ہے بلکہ لازم یہ ہے کہ جتنا گوشت اس نے ھکایا ہے اتنا ہی گوشت خرید کر مسکینوں میں صدقہ کر دے‘ اس طرح انشاء اللہ تعالیٰ اس نذر سے یہ بری الذمہ ہو جائے گی۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص551

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)