فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10139
(679) اپنی نذر کو پورا کرو
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 February 2014 03:27 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میری ایک شادی شدہ بہن ہے جس کے تین بچے ہیں اور اس کا ہمیشہ اپنے شوہر سے جھگڑا رہتا ہے بلکہ اس کے ساتھ اس کے شوہر کے انتہائی سخت معاملہ کی وجہ سے اس کا اپنے باپ کے ساتھ بھی اختلاف رہتا ہے جس کی وجہ سے یہ مجبور ہو گئی ہے کہ اپنا گھر چھوڑ کر اپنی اس مطلقہ ماں کے پاس چلی جائے جس نے ایک اور شخص سے شادی کر لی ہے مگر وہ بھی اس سے برا معاملہ کرتا ہے لہٰذا میں نے ایک بھائی ہونے کی حیثیت سے اس کیلئے مکان کا ایک حصہ مخصوص کر دیا تاکہ یہ میرے ساتھ رہائش اختیار کر لے۔ یہ اپنی ماں کے پاس بھی اکثر آتی جاتی رہتی ہے۔ ایک بار ماں کے شوہر نے اسے مجبور کیا کہ یہ جائے اور بچوں کو اپنے شوہر کے پاس چھوڑ آئے چنانچہ اپنی ماں کو راضی کرنے کی خاطر اس نے ایسا ہی کیا۔ ایک دن اس کے او ر اس کی ماں کے اس شوہر کے درمیان بہت شدید اختلاف ہوا جس کی وجہ سے یہ اپنے مکان پر آ گئی‘ ان پریشانیوں اور اولاد سے دوری کی وجہ سے اس نے فرج سے گولیاں نکالیں اور یہ تمام گولیاں کھا لیں جس سے یہ اپنی زندگی ختم کرنا چاہتی تھی چنانچہ میں اسے ہسپتال لے گیا اور اس کا علاج رکوایا۔ وفات سے قبل کے آخری دنوں میں میں نے یہ محسوس کیا کہ اپنے اس فعل پر اس نے کثرت سے توبہ و استغفار کیا ہے اور وہ ہم سے بھی یہ کہتی رہتی تھی کہ دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرما دے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کی مرضی و مشیت سے اس کا انتقال ہو گیا تو سوال یہ ہے کہ اب اس کا کیا حال ہوگا؟ کیا یہ جائز ہے کہ میں اس کی طرف سے صدقہ اور حج کروں؟ یاد رہے کہ میں نے یہ نذر مانی ہوئی ہے کہ میں انشاء اللہ ساری زندگی یہ اعمال سرانجام دیتا رہوں گا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر آپ کی مذکورہ بہن نے اللہ تعالیٰ کے آگے توبہ کر لی اور خودکشی (کا راستہ اختیار) کرنے پر ندامت کا اظہار کیا تو اس کیلئے مغفرت کی امید ہے کیونکہ توبہ سے سابقہ تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور گناہ سے توبہ کرنے والا اس طرح ہوتا ہے گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں جیسا کہ نبی اکرمﷺ صحیح احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے اگر آپ اس کی طرف سے صدقہ کریں یا اس کیلئے استغفار کریں اور دعا کریں تو یہ اس کے حق میں اور بھی اچھا ہوگا اس سے اسے فائدہ ہوگا اور آپ کو بھی اجروث واب ملے گا۔

آپ نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی جو نذریں مانی ہیں تو انہیں پورا کرتے رہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نذر کو پورا کرنے والوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا ہے:

﴿وفونَ بِالنَّذرِ‌ وَيَخافونَ يَومًا كانَ شَرُّ‌هُ مُستَطيرً‌ا ﴿٧﴾... سورة الدهر

’’یہ لوگ نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی پھیل رہی ہوگی‘‘۔

اور نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے:

«مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ، وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَهُ فَلاَ يَعْصِهِ۔ ( صحیح بخاری)

’’جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانی تو اسے اس کی اطاعت کرنی چاہئے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانی تو اسے اس کی نافرمانی نہیں کرنی چاہئے‘‘۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص543

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)