فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10134
(674) جو شخص نذر مانے اور اسے پورا نہ کرے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 February 2014 01:40 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو شخض قسم کھاتے ہوئے یہ کہے کہ میرا اللہ تعالیٰ سے یہ عہد ہے کہ میں اس طرح کروں گا یا یہ کہے کہ میں اللہ تعالیٰ کیلئے نذر مانتا ہوں کہ اس طرح کروں گا او رپھر وہ اس قسم کو پورا نہ کرے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سوال کا جواب دینے سے قبل میں یہ پسند کرتا ہوں کہ اپنے بھائیوں کی توجہ اس طرف مبذول کرائوں کہ یہ نذر جسے انسان اپنے اوپرلازم قرار دے لیتا ہے یہ مکروہ ہے کیونکہ نبی اکرمﷺ نے اس سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے:

«انه لا يأتي بخير وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ"( صحيح بخاري)

’’یہ کوئی خیرو بھلائی تو نہیں لاتی‘ ہاں البتہ اس کے ساتھ بخیل سے مال ضرور نکالا جاتا ہے‘‘۔

بعض اہل علم نے تو یہ بھی کہا ہے کہ نذر حرام ہے کیونکہ اس سے انسان اپنے اوپر ایک ایسی چیز کو لازم قرار دے لیتا ہے جو لازم نہیں ہوتی لہٰذا وہ اپنے آپ کو مشقت میں ڈال لیتا ہے اور بسا اوقات پورا نہ کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو اس عذاب عظیم کا سزاوار (مستحق) قرار دے لیتا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے۔ نذر کے مکروہ ہونے کی طرف اللہ تعالیٰ نے خود بھی اشارہ فرمایا:

﴿وَأَقسَموا بِاللَّهِ جَهدَ أَيمـٰنِهِم لَئِن أَمَر‌تَهُم لَيَخرُ‌جُنَّ ۖ قُل لا تُقسِموا ۖ طاعَةٌ مَعر‌وفَةٌ ۚ...﴿٥٣﴾... سورة النور

’’اور یہ اللہ کی سخت سخت (انتہائی پختہ) قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر تم ان کو حکم دو تو (سب گھروں سے) نکل کھڑے ہوں گے۔ کہہ دو کہ قسمیں مت کھائو‘ پسندیدہ فرماں برداری درکار ہے‘‘۔

پھر ہم لوگوں سے اس قسم کی باتیں ہمیشہ سنتے رہتے ہیں کہ انہوں نے کسی شرط کے ساتھ معلق نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مریض کو شفا دی تو میں اس قدر روزے رکھوں گا یا یہ صدقہ کروں گا اور جیسا کہ میں نے اشارہ کیا کہ اس طرح انسان اپنے آپ کو ایک بہت بڑی سزا میں مبتلا کر لیتا ہے۔

جب انسان کسی تکلیف میں مبتلا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی کوئی نذر مان لے تو اسے پورا کرنا بہرحال واجب ہے اور اسے ترک کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا:

«مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ۔ ( صحیح بخاری)

’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانے تو اسے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنی چاہئے‘‘۔

اور اس اعتبار سے کوئی فرق نہیں کہ اس نے یہ نذر کسی اطاعت واجب کی مانی ہو‘ مثلاً یہ کہ انسان یہ کہے’’میں اللہ کیلئے نذر مانتا ہوں کہ میں اپنی زکوٰۃ ادا کر دوں گا‘‘ یا کسی اطاعت مستحب کی نذر مانی ہو  مثلاً یہ کہے کہ :’’میں اللہ کے لئے نذر مانتا ہوں کہ میں دو رکعت نماز ادا کروں گا‘‘ اور اس اعتبار سے بھی کوئی فرق نہیں کہ نذر مطلق ہو اور کسی چیز کے ساتھ معلق نہ ہو یا وہ مطلق نہ ہو اور کسی چیز کے ساتھ معلق ہو۔

بہرحال ہر نذر اطاعت کا پورا کرنا واجب ہے اور یہ حلال نہیں کہ اسے چھوڑ دے اور اس کی بجائے کفارہ ادا کرے‘ اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ گناہگار ہوگا‘ ہاں البتہ اگر نذر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہ کی ہو تو اسے پورا کرنا جائز نہیں کیونکہ نبیﷺ نے فرمایا ہے:

«وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ الله فَلاَ يَعْصِهِ۔ ( صحیح بخاری)

’’جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانی تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے‘‘۔

ہاں البتہ اس صورت میں اس کیلئے قسم کا کفارہ ادا کرنا واجب ہوگا کیونکہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے:

«مَنْ نَذَرَ نَذْرًا لَمْ يُسَمِّهِ، فَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ ۔ ( سنن ابی داؤد)

’’جب نذر کو پورا نہ کرے تو نذر کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے‘‘۔

یہ حکم ہے لہٰذا جس نذر کو پورا کرنا جائز نہ ہو تو اس میں کفارہ قسم واجب ہے۔ لہٰذا اس قاعدہ کی بنا پر سائل کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ قسم کا کفارہ ادا کرے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص537

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)