فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10128
(668) کیا نذر ماننے والا اپنی نذر میں سے خود بھی…
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 17 February 2014 01:14 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جب کوئی شخص نذر مانے اور اسے پورا بھی کر دے تو کیا وہ خود اپنی نذر میں سے کھا سکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اصل یہ کہ جس چیز کی نذر مانی گئی اگر وہ مشروع امور میں سے ہے تو اسے اسی مصرف پر خرچ کیا جائے جس کی نذر ماننے والے نے نذر مانی ہے اور اگر اس نے کسی مصرف کا تعین نہ کیا ہو تو وہ ایک صدقہ ہے لہٰذا اسے صدقہ کے مصروف یعنی فقراء ومساکین میں تقسیم کر دیا جائے اور اگر نذر ماننے والے شخص کے شہر میں یہ عادت ہو کہ نذر ماننے والا بھی اس سے کھا سکتا ہے تو پھر عرف و عادت کے مطابق وہ اس سے کھا سکتا ہے یا اگر اس نے خود بھی کھانے کی نیت کی ہو تو اس صورت میں بھی وہ خود کھا سکتا ہے کیونکہ اس طرح عرف اسجزء کی تخصیص کر دیتا ہے جسے وہ خود کھاتا ہے لہفذا وہ نذر میں داخل نہیں ہوتا۔ مستقل کمیٹی کی طرف سے پہلے بھی اس سلسلہ میں ایک فتویٰ صادر ہوا تھا اور وہ یہ ہے کہ ’’نذر اطاعت کا مصرف وہ ہے جس کی نذر ماننے والے نے شریعت مطہرہ کی حدود کے اندر رہتے ہوئے نذر مانی ہو مثلاً اگر اہل خانہ اور دوست احباب کو کھلانے کی نذر مانی ہو تو پھر وہ خود بھی کھا سکتا ہے کیونکہ وہ خود بھی اپنے گھر کا ایک فرد ہے اور نبیﷺ نے فرمایا ہے:

«إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ» ( صحیح بخاری)

’’اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کیلئے صرف وہی کچھ ہے جس کی وہ نیت کرے‘‘۔

اس طرح اگر اس نے نذر مانتے ہوئے خود کھانے کی بھی شرط عائد کی ہو یا اس کے علاقے میں یہ عرف ہو تو پھر وہ خود بھی کھا سکتا ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص533

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)