فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10103
(543) ایک عورت اپنے بچوں کو قسم دیتی ہے مگر…
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 February 2014 04:19 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرے بچے ہیں اور بہت دفعہ میں انہیں قسم دے کر کہتی ہوں کہ یہ کام نہ کرو لیکن وہ میری بات نہیں مانتے تو کیا اس صورت میں بھی مجھ پر کفارہ لازم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب بھی آپ اپنے بچوں یا دوسرے لوگوں کے بارے میں ایسی قسم کھائیں جو مقصود ہو کہ مثلاً وہ یہ کام کریں یا نہ کریں اور پھر وہ آپ کی بات کو نہ مانیں تو آپ پر کفارہ قسم لازم ہوگا کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغوِ فى أَيمـٰنِكُم وَلـٰكِن يُؤاخِذُكُم بِما عَقَّدتُمُ الأَيمـٰنَ ۖ فَكَفّـٰرَ‌تُهُ إِطعامُ عَشَرَ‌ةِ مَسـٰكينَ مِن أَوسَطِ ما تُطعِمونَ أَهليكُم أَو كِسوَتُهُم أَو تَحر‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ ۖ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ ثَلـٰثَةِ أَيّامٍ ۚ ذ‌ٰلِكَ كَفّـٰرَ‌ةُ أَيمـٰنِكُم إِذا حَلَفتُم ۚ وَاحفَظوا أَيمـٰنَكُم ۚ...﴿٨٩﴾... سورة المائدة

’’اللہ تعالیٰ تمہاری بے ارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل و عیال کو کھالتے ہو یا ان کو کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھالو (اور اسے توڑ دو) اور تم کو چاہئے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو‘‘۔

اسی طرح اگر آپ کسی چیز کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائیں اور پھر یہ دیکھیں کہ مصلحت اس قسم کے خلاف ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ قسم توڑ دو اور مذکورہ کفارہ ادا کر دو کیونکہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ہے:

«إِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا، فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ»  ( صحیح بخاری)

’’جب تم قسم کھائو اور پھر اس کے علاوہ کسی اور بات کو بہتر دیکھو تو قسم کا کفارہ دے دو اور جو بہتر ہے اسے اختیار کر لو‘‘۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص518

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)