فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10100
(540) قسم نیت کے مطابق ہوتی ہے
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 February 2014 04:10 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کچھ دوست دروازے کے پاس بیٹھے تھے‘ میں نے انہیں اندر آنے کی دعوت دی لیکن انہوں نے معذرت کر دی تو میں نے کہا کہ : ’’اللہ عظیم کی قسم! یا تو تم اندر آ جائو یا یہاں کھڑے نہ ہوں‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ مشغول ہیں اور پھر وہ چلے گئے۔ امید ہے کہ آپ رہنمائی فرمائیں گے کہ اس قسم کے حوالہ سے میرے لیے کیا لازم ہے؟ اللہ آپ کو اجرو ثواب سے نوازے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسلمان کے حقوق میں سے یہ بھی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی قسم کو پورا کرے۔ آپ نے جو یہ قسم کھائی تھی کہ دروازے کے پاس کھڑے نہ ہوں اگر آپ کی اس سے نیت یہ تھی کہ وہ طویل وقت کیلئے کھڑے نہ ہوں اور وہ قسم کے بعد چلے گئے تو آپ کی قسم پوری ہو گئی کیونکہ وہ چلے گئے تھے اور کھڑے نہیں رہے اور اگر اپ کی نیت محض کھڑے ہونے سے تھی خواہ یہ تھوڑی ہی دیر کیلئے کیوں نہ ہو اور پھر وہ آپ کی قسم کے بعد بھی کھڑے رہے ہوں اور انہوں نے آپ کی قسم کی خلاف ورزی کی ہو تو پھر آپ پر کفارہ قسم لازم ہے اور وہ ہے دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا جو آپ اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہیں یا انہیں کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور اگر اس کی استطاعت نہ ہو تو متواتر تین روزے رکھنا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص516

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)