فتاویٰ جات: متفرقات
فتویٰ نمبر : 10097
(537) ایک چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دے لیا تھا
شروع از عبد الوحید ساجد بتاریخ : 16 February 2014 03:26 PM
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کمیٹی کو درج ذیل سوال موصول ہوا ہے:

میرا ایک بڑا بھائی ہے‘ ۷۶۹۱ء میں میرے پاس کھانے پینے کی بنیادی ضرورت کی بھی استطاعت نہ تھی لیکن میرے اس بڑے بھائی کو جب خوراک مل جاتی تو وہ میرے دل کو تورتے ہوئے اسے کھا لیتا۔ میں نے غصہ میں آ کر قسم کھا لی کہ میں آئندہ چائے کو حرام سمجھوں گا چنانچہ میں نے ۷۶۹۱ء سے اب تک چائے نہیں پی لہٰذا رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس طرح حرام قرار دینے کے بعد میرے لیے چائے پینا جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آپ کیلئے یہ جائز نہیں کہ کسی ایسی چیز کو حرام قرار دیں جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہو کیونکہ تحلیل و تحریم کا اختیار صرف اللہ وحدہ لا شریک کیلئے ہے۔ آپ نے جو چائے کو حرام قرار دیا تو یہ اللہ تعالیٰ کے حق پر زیادتی ہے اور اپنے آپ کو تنگی میں مبتلا کرنا ہے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ اور استغفار کیجئے۔ چائے پینے کی صورت میں آ پر کفارہ قسم واجب ہوگا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا النَّبِىُّ لِمَ تُحَرِّ‌مُ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ ۖ تَبتَغى مَر‌ضاتَ أَزو‌ٰجِكَ ۚ وَاللَّهُ غَفورٌ‌ رَ‌حيمٌ ﴿١ قَد فَرَ‌ضَ اللَّهُ لَكُم تَحِلَّةَ أَيمـٰنِكُم ۚ وَاللَّهُ مَولىٰكُم ۖ وَهُوَ العَليمُ الحَكيمُ ﴿٢﴾... سورة التحريم

’’اے پیغمبر! جو چیز اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہے آپ اسے کیوں حرام ٹھہراتے ہیں؟کیا اس سے اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہو؟ اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ اللہ نے تم لوگوں کیلئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کر دیا ہے اور اللہ ہی تمہارا کارساز ہے اور وہ دانا (اور) حکمت والا ہے‘‘۔

اور فرمایا:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا لا تُحَرِّ‌موا طَيِّبـٰتِ ما أَحَلَّ اللَّهُ لَكُم وَلا تَعتَدوا ۚ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ المُعتَدينَ ﴿٨٧ وَكُلوا مِمّا رَ‌زَقَكُمُ اللَّهُ حَلـٰلًا طَيِّبًا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذى أَنتُم بِهِ مُؤمِنونَ ﴿٨٨ لا يُؤاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغوِ فى أَيمـٰنِكُم وَلـٰكِن يُؤاخِذُكُم بِما عَقَّدتُمُ الأَيمـٰنَ ۖ فَكَفّـٰرَ‌تُهُ إِطعامُ عَشَرَ‌ةِ مَسـٰكينَ مِن أَوسَطِ ما تُطعِمونَ أَهليكُم أَو كِسوَتُهُم أَو تَحر‌يرُ‌ رَ‌قَبَةٍ ۖ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ ثَلـٰثَةِ أَيّامٍ ۚ ذ‌ٰلِكَ كَفّـٰرَ‌ةُ أَيمـٰنِكُم إِذا حَلَفتُم ۚ وَاحفَظوا أَيمـٰنَكُم ۚ كَذ‌ٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُم ءايـٰتِهِ لَعَلَّكُم تَشكُر‌ونَ ﴿٨٩﴾... سورةالمائدة

’’مومنو! جو پاکیزہ چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں ان کو حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو یقینا اللہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور جو حلال پاکیزہ روزی اللہ نے تم کو دی ہی اسے کھائو اور اللہ سے جس پر ایمان رکھتے ہو ‘ ڈرتے رہو۔ اللہ تمہاری بے ارادہ قسموں پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کرو گے) مواخذہ کرے گا تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے اور تم اپنے اہل و عیال کو  کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے دینا ایک غلام آزاد کرنا اور جس کو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین روزے رکھے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھا لو (اور اسے توڑ دو) اور تمہیں چاہیے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اس طرح تمہارے (سمجھانے کے) لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم شکر کرو‘‘۔

لہٰذا آپ کیلئے یہ کافی ہے کہ دس مسکینوں کا پانچ صاع گندم یا کھجور یا چاول وغیرہ جو آپ کھاتے ہیں نصف صاع فی مسکین کے حساب دے دیں اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھ لیں۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ اسلامیہ

ج3ص514

محدث فتویٰ


تبصرہ (0)
[Notice]: Undefined index: irsloading (cache/c62f257fe6ed43eb557019d638a0d780.php:75)